بغداد: عراقی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ عراق میں اب کوئی امریکی فوجی موجود نہیں، حتیٰ کہ مشاورتی کردار میں بھی نہیں، اور حکومت نے اگلے سال جون کے آخر تک تمام ہتھیار ریاستی اداروں کے کنٹرول میں لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ علی فالح الزیدی نے عراقی خبر رساں ادارے آئی این اے سے گفتگو میں کہا کہ غیر ملکی افواج کی عدم موجودگی کے بعد مسلح دھڑوں کی جانب سے ہتھیار رکھنے کے لیے پہلے پیش کیا جانے والا جواز ختم ہو گیا ہے۔
الزیدی کے مطابق حکومت کا فیصلہ ہے کہ 30 جون 2027 تک ریاستی فریم ورک سے باہر کوئی ہتھیار نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تین مسلح دھڑوں کے ہتھیاروں سے متعلق معاہدوں تک پہنچ چکی ہے اور مزید چار گروہوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے اس پالیسی کو حتمی اور ناقابل واپسی قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ عراق میں ریاست کے اندر دھڑے ہو سکتے ہیں، مگر ریاست کسی دھڑے کی ملکیت نہیں ہو سکتی۔
یہ بیان عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے دو دہائیوں پر محیط باب کے خاتمے اور داخلی سکیورٹی ڈھانچے کی تنظیم نو کے تناظر میں اہم ہے۔ تاہم ’کوئی امریکی فوجی باقی نہیں‘ کا دعویٰ عراقی حکومتی عہدیدار کا بیان ہے؛ امریکی حکومت کی جانب سے اسی وقت جاری کسی علیحدہ تفصیلی فورس پوزیشن کی تصدیق دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں۔
الزیدی نے کہا کہ عراق ایک مرحلے پر بین الاقوامی تنہائی کے خطرے کے قریب پہنچ گیا تھا، جس میں غیر ملکی سفارت خانوں کے ممکنہ انخلا اور پابندیوں کا خدشہ شامل تھا۔ ان کے مطابق بعض مغربی ممالک کو یہ تشویش تھی کہ مسلح گروہوں نے ریاستی فیصلوں پر حد سے زیادہ اثر حاصل کر لیا ہے، مگر حکومت نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے۔
تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کا منصوبہ صرف اعلان سے مکمل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مسلح دھڑوں کے ساتھ معاہدوں، ہتھیار جمع کرنے یا ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کے طریقہ کار، قانون نافذ کرنے کی صلاحیت اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت نے جون 2027 کی آخری تاریخ دی ہے، لیکن اس ہدف کی تکمیل کا جائزہ عملی پیش رفت سے ہی ممکن ہوگا۔
عراقی قیادت ساتھ ہی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو فوجی موجودگی کے بجائے وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کر رہی ہے۔

