نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں مساوی اور غیر امتیازی سول جوہری تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی اور دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی تک رسائی ترقی پذیر ممالک کی معاشی اور توانائی ضروریات کے لیے اہم ہے۔ پاکستان کے مستقل مشن میں کونسلر سید عاطف رضا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ پر بحث کے دوران یہ مؤقف پیش کیا۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششیں ایسی بین الاقوامی تکنیکی شراکت داری میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں جو گلوبل ساؤتھ کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق تمام ممالک کو اپنی عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی قانونی تقاضوں کے مطابق جوہری توانائی کے پرامن استعمال کا حق حاصل رہنا چاہیے۔
سید عاطف رضا نے کہا کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سلامتی سے متعلق اہم بین الاقوامی معاہدوں اور انتظامات کا فریق ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حفاظتی یا تعمیل سے متعلق تکنیکی سوالات کو سیاسی تعصب کے بجائے آئی اے ای اے جیسے متعلقہ تکنیکی اداروں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے زیر التوا تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتے ہوئے ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کا مطالبہ کیا جو کشیدگی اور تصادم کے خطرے کو بڑھا سکتے ہوں۔
پاکستانی مندوب کے مطابق ملک میں چھ جوہری بجلی گھر آئی اے ای اے کے حفاظتی انتظامات کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ری ایکٹر قومی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 20 فیصد اور کم کاربن بجلی کی پیداوار کا قریب ایک تہائی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان نے پرامن جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں آئی اے ای اے کے پروگراموں کی حمایت بھی دہرائی۔
اجلاس میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے شام، ایران اور یوکرین سے متعلق ایجنسی کی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے ایران کے معاملے میں پائیدار حل کے لیے سفارتی معاہدے اور قابل اعتماد تصدیقی عمل کو ضروری قرار دیا، جبکہ یوکرین کے زاپوریژیا جوہری بجلی گھر سے متعلق مسلسل حفاظتی خطرات کی نشاندہی کی۔
پاکستان کا مؤقف اس کی توانائی پالیسی کے اس پہلو کی عکاسی کرتا ہے جس میں جوہری بجلی کو توانائی کے متنوع ذرائع اور کم کاربن پیداوار کے ایک جزو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بیان میں کسی مخصوص نئے جوہری معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر مساوی اصولوں اور غیر امتیازی تعاون کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
