اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے ضروری مراحل مکمل کرلیے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود دیرینہ دفاعی تعاون کو ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کئی دہائیوں سے دفاع، تربیت، سکیورٹی اور عسکری رابطوں میں تعاون کرتے آئے ہیں۔ دونوں ممالک کی مسلح افواج مشترکہ مشقوں، تربیتی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطحی دفاعی تبادلوں میں شریک رہتی ہیں۔ تازہ توثیقی عمل اسی وسیع دفاعی تعلق کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، تاہم معاہدے کی تمام عملی شقیں عوامی سطح پر تفصیل سے جاری نہیں کی گئیں۔
دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی نوعیت دفاعی ہے۔ علاقائی کشیدگی کے موجودہ ماحول میں اس وضاحت کی اہمیت بڑھ گئی ہے، کیونکہ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورت حال میں تبدیلی کے اثرات پاکستان سمیت متعدد ممالک کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر پڑ سکتے ہیں۔ دستیاب سرکاری بیان سے کسی تیسرے ملک کے خلاف خودکار فوجی کارروائی یا کسی جاری تنازع میں پاکستان کی شمولیت کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
سعودی عرب پاکستان کا اہم اقتصادی اور سفارتی شراکت دار بھی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات دفاعی شعبے کے علاوہ توانائی، سرمایہ کاری، تجارت، افرادی قوت اور مذہبی روابط تک پھیلے ہوئے ہیں۔ دفاعی معاہدے کی توثیق ان تعلقات کے سکیورٹی پہلو کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔
معاہدے کے بارے میں دستیاب سرکاری مؤقف میں اسے بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔ اس سے کسی مخصوص فوجی تعیناتی یا لازمی عسکری مداخلت کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا جب تک متعلقہ حکومتیں ایسی کوئی واضح تفصیل جاری نہ کریں۔ معاہدے کے عملی اطلاق کا انحصار اس کی شقوں اور دونوں ممالک کے باہمی فیصلوں پر ہوگا۔
توثیق کی تکمیل قانونی اور سفارتی اعتبار سے اہم مرحلہ ہے کیونکہ اس سے دونوں فریق معاہدے کو اپنے متعلقہ داخلی طریقہ کار کے مطابق منظور کرنے کا عمل مکمل کرتے ہیں۔ آئندہ دفاعی تعاون کی نوعیت، مشترکہ سرگرمیوں اور کسی اضافی انتظامی فریم ورک کے بارے میں مزید تفصیلات سرکاری اعلانات کے ذریعے سامنے آسکتی ہیں۔

