پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مغربی نواحی علاقوں ٹراپ اور لا ویریئر میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک 26 سالہ شخص ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں 12 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ فرانسیسی نیشنل اینٹی ٹیررازم پراسیکیوٹر کے دفتر نے واقعے کی تحقیقات سنبھال لی ہیں اور مقدمہ دہشت گردی سے منسلک قتل و اقدام قتل کے ساتھ ممکنہ نسل پرستانہ یا مذہبی محرک کے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔

حکام اور فرانسیسی میڈیا کے مطابق حملہ آور نے جمعہ کی صبح ایک گاڑی سے مختلف مقامات پر خودکار ہتھیار سے فائرنگ کی۔ واقعات ٹراپ اور پڑوسی لا ویریئر میں تقریباً 15 سے 20 منٹ کے دوران پیش آئے۔ پولیس نے 39 سالہ مشتبہ شخص کو قریب ہی کوئنیئرز کے علاقے سے گرفتار کر لیا اور اس کی گاڑی سے ایک سب مشین گن اور دیگر اشیا برآمد کیں۔

صدر ایمانوئل میکرون نے ٹراپ کا دورہ کرتے ہوئے واقعے کو ’نسل پرستانہ دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا۔ تاہم تفتیش ابھی جاری ہے اور ملزم کے مخصوص نظریاتی محرک یا کسی منظم گروہ سے تعلق کی حتمی عدالتی تصدیق نہیں ہوئی۔ انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹر کے مطابق تحقیقات میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا متاثرین کو ان کی حقیقی یا سمجھی جانے والی نسل، قومیت، نسلی شناخت یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق زخمیوں میں 12 سالہ بچی کی حالت سنگین رہی، جبکہ دیگر متاثرین کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ مختلف ابتدائی رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد چار اور پانچ دونوں بتائی گئی، لیکن بعد کی فرانسیسی رپورٹنگ اور حکام کے بیانات میں پانچ زخمیوں کا ذکر سامنے آیا۔ اسی لیے ابتدائی اعداد میں فرق کو تفتیش اور طبی اپ ڈیٹس کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

مشتبہ شخص کے گھر کی تلاشی کے دوران پولیس اور بم ڈسپوزل ماہرین نے گیس سلنڈروں اور برقی تاروں پر مشتمل مشتبہ بندوبست بھی دریافت کیا، جس کی نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے ملزم کو تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ اس مرحلے پر واقعے کو صدر اور انسداد دہشت گردی حکام نے دہشت گردی اور ممکنہ نسل پرستانہ محرک کے تناظر میں بیان کیا ہے، لیکن جرم کی مکمل قانونی درجہ بندی اور محرک کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔