پیرس: فرانس نے نئے ملک گیر احتجاج کے پیش نظر ہفتے کے روز تقریباً 70 ہزار پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ گزشتہ ہفتے مظاہروں کے دوران ہونے والی شدید شہری بدامنی کے بعد اس مرتبہ سکیورٹی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور حکام سوشل میڈیا پر تشدد اور لوٹ مار کی اپیلوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

حالیہ احتجاج کا آغاز ثانوی اسکولوں کے طلبہ کی تعلیمی حالات سے متعلق شکایات سے ہوا تھا، لیکن بعد میں مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات کے خلاف وسیع تر ناراضی بھی اس تحریک میں شامل ہو گئی۔ گزشتہ ہفتے بعض مظاہروں کے موقع پر لوٹ مار، آتش زنی اور توڑ پھوڑ ہوئی، جس کے بعد حکومت نے پرامن احتجاج اور مجرمانہ تشدد کے درمیان فرق پر زور دیتے ہوئے سخت سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا۔

فرانسیسی حکام نے مختلف شہروں میں مظاہروں کے راستوں اور مقامات پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اورلیاں میں نیشنل ریلی کی کانگریس کے موقع پر مخالف مظاہرین کی بڑی تعداد متوقع ہے، تاہم انہیں شہر کے مرکزی حصے میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لیون کے بعض مرکزی علاقے بھی مظاہرین کے لیے بند رکھے جائیں گے۔ پیرس میں پولیس نے باستیل سے نیشن تک پہلے منظور شدہ یونین مارچ کا راستہ تبدیل کیا، جبکہ یونینز نے اس فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔

مارسی میں ایک یونین کے مظاہرے کو خصوصی اجازت دی گئی ہے، جبکہ پیرس میں لوور سمیت بعض اہم ثقافتی مقامات ہفتے کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظاہروں پر وسیع پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے پرامن اجتماع کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کیا، جبکہ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری پرامن مظاہروں کی حفاظت اور عوام کو پرتشدد بدامنی دونوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق اس ہفتے سکیورٹی فورسز کی تعیناتی گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہوگی۔ یہ پیشگی سکیورٹی منصوبہ ہے؛ احتجاج کے حجم، تشدد یا گرفتاریوں کے بارے میں نتائج مظاہرے مکمل ہونے سے پہلے طے نہیں کیے جا سکتے۔ فرانس میں یہ سیاسی و سماجی کشیدگی ایسے وقت بڑھ رہی ہے جب ملک آئندہ صدارتی انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اور مہنگائی، عوامی خدمات اور سیاسی قیادت پر بحث تیز ہے۔