رام اللہ: اسرائیلی فوج نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کردی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق آپریشن کا مقصد حملوں میں ملوث مسلح افراد اور ان کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے، جبکہ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے حلقوں نے بڑے پیمانے پر چھاپوں، نقل و حرکت کی پابندیوں اور شہری آبادی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ کارروائی میں متعدد یونٹس حصہ لے رہے ہیں اور مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن، گرفتاریاں اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ فوجی حکام نے اسے سکیورٹی خطرات کا جواب قرار دیا ہے۔ کسی بھی مخصوص شخص کے خلاف الزام کو گرفتاری یا فوجی بیان کی بنیاد پر ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جاسکتا جب تک متعلقہ قانونی یا آزادانہ شواہد سامنے نہ آئیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوج شمالی مغربی کنارے کے بعض پناہ گزین کیمپوں میں جنوری 2025 سے استعمال ہونے والے طریقہ کار کو وسیع علاقوں میں لاگو کرسکتی ہے۔ اس سابقہ آپریشن کے دوران ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے طویل نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کے نقصان اور شہریوں کی خدمات تک رسائی میں رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔

مغربی کنارے میں حالیہ برسوں کے دوران اسرائیلی فوجی چھاپوں، فلسطینی مسلح حملوں، آبادکار تشدد اور گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ غزہ جنگ اور وسیع علاقائی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اور مختلف فلسطینی تنظیمیں اسرائیلی کارروائیوں کو قبضے اور اجتماعی دباؤ کی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہیں، جبکہ اسرائیل انہیں سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی ضرورت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت مغربی کنارہ مقبوضہ فلسطینی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی بستیوں، فوجی کارروائیوں اور شہری تحفظ سے متعلق مسائل پر اقوام متحدہ اور مختلف حکومتیں بار بار تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں۔ اسرائیل اپنی سکیورٹی ضروریات اور تاریخی و قانونی دعوؤں کا حوالہ دیتا ہے، مگر بستیوں کی قانونی حیثیت اور قبضے کے اثرات پر عالمی سطح پر شدید اختلاف موجود ہے۔

تازہ آپریشن کے مکمل دائرہ کار، مدت اور انسانی اثرات کا اندازہ ابھی ممکن نہیں۔ آنے والے دنوں میں گرفتاریوں، ہلاکتوں، نقل مکانی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے پر اثرات سے متعلق اعداد سامنے آنے کے بعد ہی کارروائی کی اصل وسعت واضح ہوگی۔