اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مزید مستقل نشستیں شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحات کا مقصد موجودہ عدم مساوات کو بڑھانا نہیں بلکہ ادارے کو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف اور جوابدہ بنانا ہونا چاہیے۔ پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندے سفیر عثمان جدون نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی اصلاحات سے متعلق بحث کے دوران یہ مؤقف پیش کیا۔
عثمان جدون نے کہا کہ بنیادی سوال یہ نہیں کہ سلامتی کونسل میں اصلاح کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسی اصلاح کس طرح کی جائے جو وسیع تر رکنیت کی آواز کو مضبوط کرے۔ پاکستان طویل عرصے سے ان تجاویز کی مخالفت کرتا رہا ہے جن کے تحت چند مزید ممالک کو مستقل رکنیت دی جائے، کیونکہ اسلام آباد کے مطابق اس سے مستقل اور غیر مستقل اراکین کے درمیان موجود ساختی فرق مزید گہرا ہوسکتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف یونائٹنگ فار کنسنسس گروپ کی عمومی سوچ سے ہم آہنگ ہے، جو مستقل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے منتخب اور قابل احتساب نشستوں میں توسیع کی حمایت کرتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے حامی ممالک کہتے ہیں کہ زیادہ غیر مستقل یا طویل مدت کے لیے منتخب نشستیں مختلف خطوں کو زیادہ مواقع دے سکتی ہیں، جبکہ مستقل رکنیت نئے مراعات یافتہ مراکز پیدا کرے گی۔
سلامتی کونسل کی موجودہ ساخت میں پانچ مستقل ارکان — امریکا، چین، روس، فرانس اور برطانیہ — ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں، جبکہ دیگر اراکین محدود مدت کے لیے جنرل اسمبلی کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ کئی ممالک اور علاقائی گروپ دہائیوں سے اس ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مستقل نشستوں، ویٹو اور علاقائی نمائندگی کے سوالات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔
پاکستان نے اس بحث میں اصولی طور پر وسیع تر نمائندگی کی حمایت کی، مگر ایسی اصلاح کی مخالفت کی جو چند نئے ممالک کو مستقل حیثیت دے کر موجودہ مراعات کو مزید پھیلا دے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کے لیے باقاعدہ انتخاب اور جوابدہی کا عنصر برقرار رہنا چاہیے تاکہ سلامتی کونسل جنرل اسمبلی کے وسیع تر اعتماد کی عکاسی کرسکے۔
یہ بیان کسی نئی قرارداد یا فوری ساختی تبدیلی کا اعلان نہیں ہے بلکہ جاری بین الحکومتی مذاکرات میں پاکستان کی پالیسی پوزیشن کی تجدید ہے۔ سلامتی کونسل کی اصلاح کے لیے وسیع سیاسی اتفاق اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں تبدیلی درکار ہوگی، اس لیے مختلف ممالک کے متضاد مفادات کے باعث یہ عمل طویل اور پیچیدہ رہنے کا امکان ہے۔

