برسلز: بیلجیئم کے دارالحکومت میں اتوار 11 اکتوبر کو ہزاروں افراد نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تیز اور مؤثر اقدامات کے مطالبے پر یورپی یونین کے اداروں کی طرف مارچ کیا۔ مقامی پولیس کے مطابق مظاہرے میں تقریباً 45 ہزار افراد شریک تھے۔ یہ اجتماع اقوام متحدہ کی آئندہ موسمیاتی کانفرنس کوپ 31 سے پہلے ہوا، جس کا انعقاد اگلے مہینے ترکی کے شہر انتالیا میں ہونا ہے۔

مظاہرین نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ غیر معمولی گرمی اور موسمیاتی اثرات کے پیش نظر تحفظِ ماحول کو سیاسی اور معاشی پالیسی میں اہم مقام دیا جائے۔ اے ایف پی کے مطابق حالیہ مہینوں میں یورپ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہروں نے موسمیاتی تبدیلی کے نتائج کے بارے میں تشویش بڑھائی ہے۔ شرکا نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی اقدامات کے ساتھ سماجی انصاف، کارکنوں کے حقوق اور کمزور طبقوں کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے۔

مارچ میں شریک ماہر اقتصادیات ایتین ڈی کالاتے نے کہا کہ ماحولیاتی خدشات صرف احتجاج کرنے والوں تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق سیاست دانوں کو ماحولیاتی فیصلے کرتے ہوئے ممکنہ انتخابی ردعمل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ترقیاتی تعاون کے ایک ادارے سے وابستہ اورور شریبر نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اس لیے شریک ہوئیں کہ سیاسی قیادت شہریوں کی آواز سنے۔ انہوں نے نوجوانوں اور کمزور آبادیوں کی ضروریات کو زیادہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

یہ مظاہرہ ایسے وقت ہوا ہے جب کوپ 31 سے بڑے عالمی معاہدے کی توقعات نسبتاً کم بتائی جارہی ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے بین الاقوامی مذاکراتی عمل سے فاصلہ اختیار کیا ہے جبکہ یورپ میں بھی پہلے جیسی سیاسی رفتار برقرار نہیں رہی۔ تیل اور گیس کی بلند قیمتیں توانائی پیدا کرنے والے ممالک کی پوزیشن مضبوط کرتی ہیں اور ایندھن سے بتدریج دوری کی گفتگو کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

یورپی یونین خود کو عالمی موسمیاتی کارروائی میں اہم کردار ادا کرنے والا اتحاد قرار دیتی ہے، لیکن اس کی حالیہ پالیسی تجاویز پر سوال بھی اٹھے ہیں۔ رپورٹ میں مثال دی گئی کہ یورپی کمیشن نے میتھین سے متعلق قانون کے نفاذ کو 2027 سے 2028 تک ایک سال مؤخر کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ تجویز ہے، اسے نافذ شدہ حتمی قانون کے طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔

شرکا کے مطالبات کا رخ صرف کسی ایک ملک کی حکومت کی طرف نہیں تھا بلکہ یورپی اور عالمی رہنماؤں سے پائیدار فیصلوں کی توقعات ظاہر کی گئیں۔ مارچ میں موجود لوگوں کی تعداد پولیس کے تخمینے کے مطابق ہے اور کانفرنس سے کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ یہ تفصیلات 12 اکتوبر کو ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔