جنیوا: عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں دنیا کے اہم ترین سائنسی جائزے کی تیاری اور اشاعت کے وقت پر طویل اختلاف برقرار ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی 9 اکتوبر 2026 کی تحقیق کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی، آئی پی سی سی، کے رکن ممالک تقریباً تین برس سے اگلے جامع جائزے کی اشاعت کا متفقہ شیڈول طے نہیں کر سکے۔

آئی پی سی سی کی رپورٹس مختلف ملکوں کے سائنس دانوں کی تحقیق کو یکجا کرتی ہیں اور عالمی موسمیاتی معاہدوں، قومی اہداف اور موسمیاتی خطرات سے متعلق فیصلوں کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ عمومی طور پر جامع جائزے کئی برس کے وقفے سے جاری ہوتے ہیں۔ اس بار اختلاف صرف ایک انتظامی تاریخ کا نہیں بلکہ اس سوال سے جڑا ہے کہ اہم عالمی مذاکرات سے پہلے کون سے سائنسی نتائج مکمل اور قابل استعمال صورت میں دستیاب ہوں گے۔

روئٹرز کے مطابق موجودہ تعطل امیر صنعتی ممالک، تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں اور کم آمدنی والے ممالک کے درمیان وسیع تر اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔ بحث میں یہ نکات شامل ہیں کہ سائنسی جائزے میں تمام خطوں کے محققین کو مناسب نمائندگی کیسے ملے، ترقی پذیر ممالک کے پاس تحقیق اور تجزیے کے لیے کتنا وقت ہو، اور موسمیاتی اقدامات کی ذمہ داری کس طرح تقسیم کی جائے۔

بعض ممالک اور ماہرین چاہتے ہیں کہ رپورٹ اتنی جلد سامنے آ جائے کہ 2028 کے اہم عالمی موسمیاتی مذاکرات میں اس سے رہنمائی لی جا سکے۔ دوسری جانب کچھ ترقی پذیر ممالک کے نمائندے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جلد بازی کی وجہ سے کم وسائل رکھنے والے محققین یا قومی ادارے سائنسی عمل میں مؤثر طور پر شریک ہونے سے محروم نہ رہیں۔ دونوں مؤقف موسمیاتی حکمرانی کے الگ الگ عملی خدشات کو ظاہر کرتے ہیں۔

روئٹرز نے ایک درجن سے زیادہ موجودہ اور سابق آئی پی سی سی سائنس دانوں، مذاکرات کاروں اور مبصرین سے بات کی۔ ان میں بعض نے خبردار کیا کہ تاخیر کے باعث ملکوں کو نئی سائنسی معلومات کے مکمل اتفاق رائے کے بغیر مستقبل کے اقدامات طے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر عالمی حدت کے اثرات، موافقت، موسمیاتی مالیات اور بعض ممکنہ طور پر ناقابل واپسی نقصانات سے متعلق سوالات اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

آئی پی سی سی کی 195 رکن حکومتوں کا عمل پیچیدہ ہے کیونکہ سائنسی آزادی اور حکومتی اتفاق رائے دونوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ کچھ ناقدین کو خدشہ ہے کہ اشاعت میں تاخیر سخت موسمیاتی اہداف سے بچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس اعتراض کو تمام ممالک کے ارادوں کے بارے میں ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ تنازع میں نمائندگی اور تحقیقی عمل کی عملی دشواریاں بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں آئندہ اجلاس اس تعطل کو حل کرنے کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ تاہم اجلاس سے پہلے یہ کہنا ممکن نہیں کہ حتمی شیڈول طے ہو جائے گا یا تمام فریق اپنی ترجیحات بدل لیں گے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے دوران تازہ قابل اعتماد سائنس کی بروقت دستیابی عالمی فیصلوں کے لیے اہم ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اشاعت کے شیڈول کا تنازع عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔