راولپنڈی: ضلعی انتظامیہ نے نالہ لئی کے کناروں پر تجاوزات کے خلاف اقدامات تیز کرنے اور 2001 کے تباہ کن سیلاب کے بعد سرکاری تحویل میں لی گئی 300 کنال سے زیادہ اراضی کی حد بندی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق غیر قانونی قبضوں نے نالے کی قدرتی یا مختص گزرگاہ کو تنگ کیا ہے، جس سے بارشوں کے موسم میں پانی کے بہاؤ کو سنبھالنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
ڈان کی 11 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ نالہ لئی کے کناروں پر تجاوزات کا معاملہ دوبارہ توجہ میں لایا گیا ہے۔ سنہ 2001 میں شدید سیلاب کے بعد حکومت نے نالے کے اطراف زمین حاصل کی تھی تاکہ مستقبل میں پانی کے بہاؤ اور سیلاب سے متعلق انتظامات بہتر کیے جا سکیں۔ انتظامیہ کے مطابق بعض مقامات پر بعد میں دوبارہ قبضے ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی ہے کہ نالہ لئی میں کوڑا کرکٹ یا تعمیراتی ملبہ پھینکنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران سے نالے کے مسائل کے طویل مدتی حل کے لیے جامع منصوبہ بھی طلب کیا ہے، جس میں کناروں سے تجاوزات کا خاتمہ بنیادی نکتہ ہوگا۔
واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی، واسا، کے منیجنگ ڈائریکٹر عزیزاللہ خان کے مطابق ادارے نے نالے میں ٹھوس اور تعمیراتی فضلہ پھینکنے سے روکنے کے لیے پہلے ہی خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے رکھی ہے۔ ان کے بقول چار چار ارکان پر مشتمل تین ٹیمیں مختلف اوقات میں کام کر رہی ہیں، جبکہ خلاف ورزی میں ملوث افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے۔
واسا حکام کے مطابق سرکاری طور پر حاصل کی گئی زمین کی حد بندی مکمل ہونے کے بعد انتظامیہ اسے تجاوزات سے واگزار کرانے کے اقدامات کرے گی۔ فی الحال خبر میں زمین کی حد بندی اور ہٹانے کے فیصلے کا ذکر ہے؛ تمام تجاوزات ختم ہو چکنے یا اراضی مکمل طور پر واپس ملنے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
نالہ لئی راولپنڈی کے شہری علاقوں سے گزرتا ہے اور شدید بارشوں میں پانی کی سطح بڑھنے سے اطراف کی آبادیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سرکاری زمین کی حفاظت، کچرے کی روک تھام اور نکاسی کے نظام کی دیکھ بھال صرف تعمیراتی یا انتظامی نہیں بلکہ شہری تحفظ کا بھی اہم معاملہ ہے۔

