اسلام آباد کے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے محکمہ ماحولیات نے سیکٹر ایف ایٹ میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر اپنے دو اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ممبر ماحولیات عبداللہ خرم نیازی کو اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں تین درخت اور کئی دوسرے درختوں کی شاخیں کاٹی گئی ہیں۔ اطلاع کے بعد انہوں نے متعلقہ شعبے کو ایک فاریسٹ گارڈ اور ایک فاریسٹر کی معطلی کا حکم دیا۔
ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ کارروائی دونوں اہلکاروں کے مبینہ کردار کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ معطلی انتظامی اقدام ہے اور اسے جرم ثابت ہونے یا کسی عدالتی فیصلے کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹ ونگ عرفان نیازی نے تصدیق کی کہ ممبر ماحولیات نے دونوں اہلکاروں کی معطلی کا حکم جاری کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ ماحولیات کے اندر بدعنوانی اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق دوسرے معاملات میں بھی حالیہ دنوں کارروائیاں ہوئی ہیں۔ بھارہ کہو کے علاقے میں جنگلاتی زمین پر تجاوزات سے متعلق معاملات میں تین اہلکار معطل کیے گئے تھے، جبکہ سیکٹر آئی چودہ میں ایک فاریسٹ گارڈ کو نجی ٹھیکیدار سے مبینہ رشوت لینے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معطل کیا گیا تھا۔ تازہ کارروائی کے بعد ان حالیہ معاملات میں معطل ہونے والے اہلکاروں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
ادارے کے ایک اہلکار نے مزید نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی شعبے کی جانب سے جاری چالانوں اور بعد میں ان کے مقدمات کی پیش رفت کو بھی جانچنا چاہیے، خصوصاً بھارہ کہو کے علاقے میں۔ اس رائے کا مقصد نفاذ قانون کی نگرانی کو مؤثر بنانا ہے، تاہم رپورٹ میں کسی نئے ذمہ دار شخص کے خلاف سزا یا حتمی انضباطی فیصلہ درج نہیں۔
اسلام آباد میں درختوں اور جنگلاتی اراضی کا تحفظ شہری ماحولیات کے لیے اہم انتظامی ذمہ داری ہے۔ سیکٹر ایف ایٹ کا تازہ واقعہ متعلقہ اہلکاروں کی نگرانی اور اجازت ناموں کے طریقہ کار کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے۔ دستیاب خبر کے مطابق انتظامیہ نے معطلی کا حکم دیا ہے، لیکن تین درخت کس اجازت سے اور کس نے کاٹے، اس بارے میں مکمل تحقیقات اور کسی ممکنہ مزید کارروائی کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔ اس لیے ذمہ داری کے بارے میں حتمی رائے سے گریز ضروری ہے۔

