جکارتہ: انڈونیشیا میں بورنیو جزیرے پر جنگلات اور زرعی علاقوں میں لگنے والی آگ کے دوران بچائے گئے آٹھ اورنگوٹان کو محفوظ جنگل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ انڈونیشیا کی وزارت جنگلات اور جنگلی حیات کی بحالی کے ادارے وائی آئی اے آر آئی نے اتوار کو بتایا کہ ان جانوروں کو جمعے کے روز مغربی کلیمنتان کے باتو نیامبو پروٹیکٹڈ فاریسٹ میں چھوڑا گیا تھا۔

ان آٹھ جانوروں میں تین مادہ اور ان کے تین بچے جبکہ دو نوعمر نر اورنگوٹان شامل ہیں۔ حکام کے مطابق انہیں گزشتہ مہینے مختلف ایسے مقامات سے بچایا گیا جہاں آگ نے قدرتی رہائش گاہوں کے آس پاس خصوصاً زرعی زمین کو نقصان پہنچایا تھا۔ جنگل کے قریب شعلوں اور دھوئیں سے متاثر علاقوں میں رہنا جانوروں کے لیے محفوظ نہیں سمجھا گیا، جس کے بعد انہیں دوسرے موزوں مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا۔

باتو نیامبو محفوظ جنگل کا رقبہ تقریباً 23 ہزار ہیکٹر بتایا گیا ہے اور اس میں قدیم اور دوبارہ اگنے والے جنگلات دونوں قسم کے علاقے موجود ہیں۔ بحالی ادارے کے مطابق مقام کے انتخاب میں کھانے اور پانی کی دستیابی کے ساتھ دوسرے جنگلات سے زمینی رابطے کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ حکام کا مقصد جانوروں کو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا نہیں بلکہ ایسی قدرتی رہائش میں چھوڑنا ہے جہاں ان کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہوں۔

وائی آئی اے آر آئی کی سربراہ کارمیلے یانو سانچیز نے کہا کہ رہائش گاہ غیر محفوظ ہوجانے کے بعد جانوروں کی منتقلی بعض مواقع پر ضروری قدم بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق اصل ترجیح اورنگوٹان کی قدرتی رہائش گاہوں کا تحفظ ہے، لیکن جب انہیں مستقل خطرات کا سامنا ہو تو ریسکیو اور موزوں ماحول میں رہائی بقا کے لیے مؤثر اختیار ہوسکتا ہے۔

ادارے کے عملی شعبے کے ڈائریکٹر ارگیتو رانٹنگ نے کہا کہ محفوظ مقام میں خوراک، پانی اور ملحقہ جنگلات کی موجودگی کو اہم سمجھا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کارروائی کی کامیابی کا پیمانہ صرف منتقلی نہیں بلکہ جانوروں کا طویل عرصے تک اپنے ماحول میں زندہ رہنا ہے۔

بورنیو میں جنگلات کی آگ اور زرعی سرگرمیوں کے باعث حیاتیاتی تنوع کو درپیش خطرات کے تناظر میں یہ کارروائی اہم ہے، لیکن صرف آٹھ جانوروں کی منتقلی سے وسیع سطح پر جنگلات کے مسائل حل ہوجانے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ دستیاب رپورٹ میں منتقلی کے بعد ان جانوروں کی طویل مدتی نگرانی کے نتائج شامل نہیں تھے۔ خبر 12 اکتوبر 2026 کو روزنامہ ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ پر مبنی ہے۔