سنگاپور: چین کی بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی کی ایگزیکٹو نائب صدر سٹیلا لی نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر کاروبار پھیلانے کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کیفیت ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے آٹھ اکتوبر کو سنگاپور میں ملکن انسٹی ٹیوٹ ایشیا سمٹ کے دوران کمپنی کی توسیعی حکمت عملی پر بات کی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارساز اداروں کے فیصلوں پر صرف صارفین کی طلب یا مصنوعات کی لاگت نہیں بلکہ مختلف ملکوں کی سیاسی اور تجارتی پالیسیاں بھی اثر انداز ہورہی ہیں۔
سٹیلا لی نے کہا کہ کسی کاروبار میں سرمایہ لگانے کے لیے کمپنی کو قواعد و ضوابط، مستقبل کے امکانات اور فیصلوں کے ممکنہ نتائج میں واضح صورت حال درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جغرافیائی سیاست میں یہ پیش بینی کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کسی حکومت یا فریق کی اگلی سمت کیا ہوگی۔ انہوں نے اسے سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیا، تاہم کسی نئی عالمی پابندی یا مخصوص حکومتی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔
امریکی مارکیٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بی وائی ڈی عرصے سے امریکا میں موجود ہے لیکن اس وقت وہاں مسافر گاڑیوں کی فروخت شروع نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھے گی۔ انہوں نے امریکی ماحول کو پیچیدہ قرار دیا اور وضاحت کی کہ کمپنی کو مطلوبہ پالیسی وضاحت اور استحکام میسر نہیں۔ یہ مؤقف موجودہ حکمت عملی سے متعلق ہے؛ اسے امریکی مارکیٹ سے کمپنی کے تمام کاروبار ختم کرنے کا فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
کمپنی کی نائب صدر نے دیگر چینی کمپنیوں کے ساتھ نئی شراکت داری کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بی وائی ڈی متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو کافی مضبوط سمجھتی ہے۔ ان کے بقول کمپنی صرف گاڑیاں نہیں بناتی بلکہ توانائی ذخیرہ کرنے اور شمسی توانائی جیسے کاروباروں میں بھی سرگرم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین میں مناسب تعداد میں ملازمین کی بھرتی مشکل رہی ہے اور مستقبل میں صنعتی روبوٹس سے فائدہ اٹھانے کی امید ہے۔
سٹیلا لی نے ہانگ کانگ کی مارکیٹ میں کمپنی کے حصص کی قدر کے بارے میں اپنی رائے بھی دی اور امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں انہیں کم قدر پر ہونے کا تاثر دیا۔ یہ کمپنی عہدیدار کی رائے ہے، کسی آزاد مالی تجزیے کی حتمی سفارش نہیں۔ انہوں نے امریکی چپ ساز ادارے این ویڈیا کو بی وائی ڈی کا مضبوط ٹیکنالوجی شراکت دار بھی قرار دیا۔
یہ گفتگو ایسے مرحلے پر سامنے آئی ہے جب بی وائی ڈی کی قیادت مستقبل کے چند برس میں دنیا کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی بننے کی خواہش ظاہر کرچکی ہے۔ تاہم تازہ بیان میں کسی نئی منزل، فیکٹری یا فروخت کے ہدف کی منظوری نہیں دی گئی۔ خبر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ برقی گاڑیوں کی عالمی مسابقت میں سیاسی استحکام اور تجارتی قواعد سرمایہ کاری کی سمت طے کرنے والے اہم عوامل بن رہے ہیں۔
