کراچی: سندھ حکومت نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ کم کرنے کے لیے 15 اکتوبر 2026 سے سرکاری ذخائر میں موجود گندم مارکیٹ میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک کے اجلاس میں سو کلو گرام گندم کی بوری کے لیے 12 ہزار 500 روپے کی اجرائی قیمت منظور کی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ تاریخ سے گندم کی فراہمی شروع کی جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ سرکاری نرخ کا فائدہ عام خریدار تک پہنچے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے بیان کے مطابق اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع میں موجود گندم کے ذخائر اور بازار کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ سندھ کے پاس اس وقت 346 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، یعنی پاسکو، سے ایک لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن اور مزید تین لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم شامل ہونے کے بعد دستیاب ذخیرہ آٹھ لاکھ 36 ہزار 414 میٹرک ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اضافی مقدار ابھی متعلقہ ذرائع سے وصول ہونے والی گندم سے مشروط ہے۔
اجلاس میں پیش کردہ اعداد کے مطابق کراچی ڈویژن میں موجود ذخیرہ ایک لاکھ 35 ہزار 948 میٹرک ٹن تھا، جو نئی ترسیلات کے بعد پانچ لاکھ 65 ہزار 948 میٹرک ٹن تک بڑھ سکتا ہے۔ پاسکو کے ذخائر سے حیدرآباد کے لیے 30 ہزار میٹرک ٹن اور میرپورخاص و شہید بینظیرآباد کے علاقوں کے لیے مجموعی طور پر 60 ہزار میٹرک ٹن مختص کرنے کی بھی تفصیلات پیش کی گئیں۔
صوبائی حکام نے بتایا کہ کراچی میں سو کلو گرام گندم کی قیمت تقریباً 13 ہزار 200 روپے چل رہی تھی جبکہ پرچون میں آٹا 165 سے 170 روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہا تھا۔ یکم اکتوبر کے مقابلے میں ان قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ذخائر، بازار کی صورتحال اور سرکاری گندم کی اجرائی قیمت کے ممکنہ اثرات دیکھنے کے بعد فیصلے کی منظوری دی۔
یہ فیصلہ فی الحال گندم جاری کرنے کے سرکاری نرخ سے متعلق ہے؛ آٹے کی پرچون قیمت میں کتنی اور کب کمی آئے گی، اس کا انحصار اصل رسد، فلور ملوں اور بازار کی نگرانی پر ہو گا۔ محکمہ خوراک کو قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنے اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
