اسلام آباد: گندم کی نئی بوائی کا موسم قریب آنے کے باوجود وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے ربیع کی فصلوں کے پیداواری اہداف کو حتمی شکل نہیں دی۔ سات اکتوبر کو وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے بعد وزارت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اہداف گندم کی مجوزہ یا رہنما قیمت کے اعلان کے بعد طے کیے جائیں گے۔ اس ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ اجلاس میں فصلوں کے اہداف پر غور تو ہوا لیکن حتمی اعداد مقرر نہیں کیے گئے۔
وزیراعظم نے حال ہی میں گندم کی بوائی کے موسم کے لیے پالیسی اقدامات تجویز کرنے کی غرض سے آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس میں وفاقی و صوبائی سطح کے زرعی حکام اور بینکاری شعبے کے نمائندے شامل ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کو کھاد، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات کا سامنا ہے، اس لیے مناسب قیمت اور پیداواری وسائل کی دستیابی اہم مسائل ہیں۔ وزیر قومی غذائی تحفظ نے اجلاس میں ان مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے مناسب گندم قیمت اور قابل استطاعت زرعی اشیا کے لیے اقدامات کا ذکر کیا۔
آبپاشی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب اور سندھ کے لیے ربیع کے دوران پانی کی 22 فیصد متوقع قلت ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں معمول سے کم بارشوں کی وجہ سے اکتوبر اور نومبر میں زمین میں نمی کی کمی کا خدشہ بھی موجود ہے۔ تاہم اگلے دو ماہ کے لیے نسبتاً زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کے باعث صورت حال میں بہتری کی توقع ظاہر کی گئی۔ یہ پیش گوئی ہے، یقینی موسمی نتیجہ نہیں۔
وفاقی بیج تصدیقی ادارے نے کمیٹی کو بتایا کہ ربیع کی فصلوں کے لیے تصدیق شدہ بیجوں کی دستیابی تسلی بخش رہنے کی توقع ہے۔ اجلاس میں گزشتہ خریف فصلوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق گنے، چاول، مکئی، مونگ اور مرچ کی پیداوار یا کاشت کے بعض اشاریوں میں سالانہ بہتری دیکھی گئی۔ وزارت کے فراہم کردہ ابتدائی تخمینے کے مطابق 2025-26 میں گنے کی پیداوار تقریباً 9 کروڑ 72 لاکھ ٹن، چاول ایک کروڑ 18 لاکھ ٹن سے کچھ زیادہ اور مکئی تقریباً 99 لاکھ 70 ہزار ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔ یہ تخمینے حتمی فصل شماری نہیں ہیں۔
کمیٹی نے کھاد اور زرعی قرضوں کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق یوریا کی مجموعی دستیابی متوقع طلب سے زیادہ بتائی گئی، جبکہ ڈی اے پی کھاد کی رسد اور طلب میں فرق نجی شعبے کی درآمدات سے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے اسٹیٹ بینک کا اشاری زرعی قرض ہدف 3 ہزار 62 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
ربیع کے اہداف کے حتمی تعین میں گندم کی رہنما قیمت، پانی کی صورت حال اور کاشتکاروں کے اخراجات بنیادی عوامل ہیں۔ اس وقت کسی نئے پیداواری ہدف یا حتمی گندم قیمت کے اعلان کی خبر سامنے نہیں آئی، لہٰذا اگلے سرکاری فیصلے تک اس معاملے کو مؤخر سمجھنا درست ہوگا۔

