اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے صنعتوں میں اصل پیداوار کے اعدادوشمار حاصل کرنے کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ کے موجودہ نظام کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ سات اکتوبر کو جاری ایس آر او 1751 آف 2026 کے تحت چمڑے، کاغذ اور پیپر بورڈ کی رجسٹرڈ مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو سیلز ٹیکس رولز 2006 کے متعلقہ باب کے تحت الیکٹرانک نگرانی میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹیکس ادارے کا مقصد تیار ہونے والی مصنوعات کے اعداد کو صرف صنعت کار کی خود جمع کرائی گئی معلومات تک محدود رکھنے کے بجائے پیداواری عمل سے براہ راست منسلک کرنا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق نئے اقدامات کے ساتھ ایف بی آر نے چار نجی اداروں کو پانچ شعبوں میں کیمرہ پر مبنی نظام فراہم کرنے، نصب کرنے، چلانے اور اس کی مرمت کا اختیار دیا ہے۔ ان شعبوں میں پیک شدہ چائے، گھریلو برقی آلات، کاغذ اور پیپر بورڈ، خوردنی تیل اور گھی، اور چمڑا شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر مقررہ صنعتوں میں الیکٹرانک مانیٹرنگ کا عمل پہلے سے جاری ہے، اس لیے یہ تمام شعبوں کے لیے پہلی مرتبہ بنایا گیا نظام نہیں بلکہ جاری بندوبست کی توسیع ہے۔
مجوزہ نگرانی کے لیے پیداواری لائنوں پر انٹرنیٹ پروٹوکول کیمرے اور نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈرز نصب کیے جائیں گے۔ بیان کردہ طریقے کے مطابق کیمرے پیداواری سرگرمی کو مسلسل ریکارڈ کریں گے، جبکہ ریکارڈنگ آلات میں کم از کم دو ماہ کا مواد محفوظ رکھا جائے گا۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اس نگرانی کا حاصل کردہ ریکارڈ ادارے کی ملکیت ہوگا اور اسے خفیہ معلومات کے طور پر برتا جائے گا۔ بورڈ کی ہدایت کے بغیر یہ مواد دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکے گا۔
وینڈرز کی ذمہ داری متعین آلات کی خریداری، تنصیب، آپریشن اور دیکھ بھال تک محدود بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں متعلقہ صنعتوں کو ان مقررہ آلات سے ہٹ کر دوسرا سافٹ ویئر یا سامان بیچنے یا اس کی قیمت وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس شرط کا مقصد منصوبے میں شامل سازوسامان اور اخراجات کے دائرے کو واضح رکھنا ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے فولاد پگھلانے اور دوبارہ رولنگ کرنے والے صنعتی یونٹوں کے لیے بجلی کی کھپت بتانے کی آن لائن سہولت بھی متعارف کرائی ہے۔ یہ سہولت ان حالات کے لیے بیان کی گئی ہے جب بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں متعلقہ معلومات جمع نہ کرائیں یا ان کی ٹیکس ریٹرن تاخیر سے آئے، جس سے سیلز ٹیکس واجبات کا مطلوبہ حساب متاثر ہو۔
الیکٹرانک نگرانی کے پھیلاؤ سے ٹیکس انتظامیہ کو پیداواری ریکارڈ کی جانچ میں اضافی ذرائع ملیں گے، تاہم اس سے مستقبل میں ٹیکس وصولیوں میں کتنے اضافے کی توقع ہے، اس کا کوئی تصدیق شدہ عدد موجودہ رپورٹ میں نہیں دیا گیا۔ کسی مخصوص صنعت کار کے خلاف ٹیکس چوری ثابت ہونے کی خبر بھی یہ نوٹیفکیشن نہیں ہے۔
