اسلام آباد: حکومت نے بتایا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بینکاری نظام میں واجب الادا قرضوں کا حجم رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مزید بڑھا ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے سات اکتوبر کو ہونے والے رسائی برائے مالیات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے بعد جاری تفصیلات کے مطابق ایس ایم ای شعبے کے قرضوں میں 23 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد کل بقایا حجم ایک ہزار 137 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس دوران نئے یا فعال قرض لینے والوں کی تعداد میں 25 ہزار سے زیادہ کا اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد تقریباً تین لاکھ پچاس ہزار 862 تک پہنچی۔ یہ اعداد قرضوں کے بقایا حجم اور قرض لینے والوں کے شمار سے متعلق ہیں؛ انہیں نئے منظور شدہ قرضوں یا نقد رقوم کی اسی مقدار میں فوری تقسیم کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد کے مطابق مالی سال 2026-27 کی جولائی تا ستمبر سہ ماہی میں چار ترجیحی شعبوں یعنی ہاؤسنگ، چھوٹے و درمیانے کاروبار، زراعت اور برقی گاڑیوں کو تقریباً 222 ارب روپے کی مجموعی فنانسنگ فراہم کی گئی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قرضوں کے فیصلوں میں بہتر معلومات، ذمہ دارانہ رسک جانچ اور اداروں کے درمیان معلومات کے مناسب تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق قرض دینے والے اداروں کو ایسے اعداد میسر ہونے چاہییں جن سے وہ کاروباروں کی ادائیگی کی صلاحیت کا بہتر اندازہ لگا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معلومات استعمال کرتے ہوئے مناسب حفاظتی انتظامات اور متعین مقاصد کی پابندی ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ کمیٹی کا کام محض سفارشات تک محدود نہ رہے بلکہ فیصلوں کے عملی نفاذ، قابل پیمائش نتائج اور ذیلی کمیٹیوں کے کام کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ اس بیان میں کسی مخصوص بینک پر نیا قرض لازماً جاری کرنے کا حکم یا کسی درخواست گزار کے لیے خودکار قرض منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکومتی درمیانی مدت کے ہدف کے مطابق 30 جون 2028 تک ایس ایم ای قرضوں کا حجم دو ہزار ارب روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد سات لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تجارتی بینکوں، مائیکرو فنانس اداروں اور دیگر مالی خدمات فراہم کرنے والوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے رسمی مالیاتی سہولتوں تک رسائی بڑھانے کا ہدف روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، مگر آئندہ نتائج کا اندازہ حکومتی ہدف مقرر ہونے سے نہیں بلکہ قرضوں کی حقیقی تقسیم، وصولیوں، قرض لینے والوں کی تعداد اور مالی خطرات کے اعداد سے ہوگا۔ موجودہ رپورٹ صرف ابتدائی سہ ماہی کی دستیاب پیش رفت کی تصدیق کرتی ہے۔

