لاس اینجلس: امریکا کی سمندری بندرگاہوں پر ستمبر 2026 میں پہنچنے والے درآمدی کنٹینرز کی تعداد گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں بڑھ کر اس ماہ کے لیے نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سپلائی چین ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی ڈیکارٹس سسٹمز گروپ نے جمعرات آٹھ اکتوبر کو اپنی تازہ رپورٹ میں یہ اعداد و شمار جاری کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی کنٹینر درآمدات میں سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چین سے بھیجے گئے کنٹینرز کی تعداد میں 21.2 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

ڈیکارٹس کے حساب سے ستمبر کی درآمدی سرگرمی 25 لاکھ 50 ہزار ٹی ای یو تک پہنچی۔ ٹی ای یو بندرگاہی تجارت میں بیس فٹ لمبے معیاری کنٹینر کے مساوی پیمانے کو کہا جاتا ہے، جس کی مدد سے مختلف سائز کے کنٹینرز کی مجموعی مقدار کا تقابل کیا جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق چین سے آنے والے کنٹینرز کا حجم 9 لاکھ 24 ہزار 454 ٹی ای یو رہا، جو اسی ماہ امریکا کی کل کنٹینر درآمدات کا تقریباً 36.3 فیصد بنتا ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی ترسیلات میں پلاسٹک کی مصنوعات، فرنیچر، بستر سے متعلق سامان، کھلونے اور کھیلوں کی اشیا جیسی ریٹیل مصنوعات نمایاں تھیں۔ یہ وہ زمروں کی اشیا ہیں جو امریکی بڑی ریٹیل کمپنیوں کے فروخت کردہ سامان میں شامل ہوتی ہیں۔ اس رپورٹ میں کسی ایک کمپنی کی جانب سے درآمدات کی مخصوص مقدار کو الگ سے منسوب نہیں کیا گیا۔

تجارتی مبصرین کنٹینر درآمدات کے رجحان کو امریکی صارفین کی طلب، رسدی نظام کی صورت حال اور تجارتی پالیسیوں کے ممکنہ اثرات جانچنے کے اشاروں میں شمار کرتے ہیں۔ تاہم ماہانہ ترسیلات میں اضافے سے لازماً یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تمام معاشی شعبوں میں یکساں تیزی آئی ہے۔ درآمد کنندگان کے ذخیرہ کرنے کے فیصلے، موسمی خریداری اور تجارت سے متعلق خدشات بھی کنٹینر آمدورفت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے نو ماہ میں مجموعی امریکی کنٹینر درآمدات پچھلے سال کی اسی مدت سے صرف 0.8 فیصد زیادہ رہیں۔ اس لحاظ سے ستمبر کی تیز رفتار سالانہ نمو اور پورے نو ماہ کا نسبتاً معمولی اضافہ الگ الگ تصویر پیش کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ امریکا اور چین کے تجارتی تعلقات میں تبدیلیوں کے باوجود چینی اشیا امریکی درآمدی کنٹینرز کا بڑا حصہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیکارٹس کی رپورٹ ستمبر میں بندرگاہوں تک پہنچنے والی اشیا کی مقدار بیان کرتی ہے؛ یہ تجارتی معاہدے، مستقبل کی طلب یا محصولات میں کسی نئے فیصلے کا اعلان نہیں ہے۔