تائی پے: مصنوعی ذہانت کی چپس اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی عالمی طلب کے باعث تائیوان کی برآمدات ستمبر میں مسلسل دوسرے مہینے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ آٹھ اکتوبر کو وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں برآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 60.9 فیصد بڑھ کر 87.22 ارب ڈالر ہوگئیں۔ اگست میں یہ رقم 82.4 ارب ڈالر تھی۔

ستمبر کی سالانہ شرح نمو ماہرین اقتصادیات کی 45.65 فیصد اضافے کی پیش گوئی سے زیادہ رہی۔ اگست میں سالانہ اضافہ 41 فیصد ریکارڈ ہوا تھا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق تائیوان کی برآمدات میں سال بہ سال اضافہ مسلسل 35ویں مہینے بھی برقرار رہا۔ یہ اعداد و شمار برآمدی تجارت کی قدر سے متعلق ہیں، انہیں براہ راست مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو قرار نہیں دیا جاسکتا۔

امریکی مارکیٹ میں تائیوانی مصنوعات کی طلب خاص طور پر مضبوط رہی۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کو ستمبر کی برآمدات 106.2 فیصد بڑھ کر 27.461 ارب ڈالر تک پہنچیں، جبکہ چین کو بھیجی گئی مصنوعات کی قدر میں 30.2 فیصد اضافہ ہوا۔ الیکٹرانک پرزوں کی برآمدات 45.3 فیصد بڑھ کر 31.131 ارب ڈالر ہوئیں۔ معلوماتی مصنوعات کی برآمدات میں سالانہ اضافہ 103 فیصد بتایا گیا۔

روئٹرز کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز، زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی ضرورت اور کلاؤڈ سروسز کی توسیع تائیوانی ٹیکنالوجی کی مانگ بڑھانے والے اہم عوامل رہے۔ تائیوان کی بڑی کمپنی ٹی ایس ایم سی جدید سیمی کنڈکٹرز تیار کرتی ہے اور این ویڈیا، ایپل سمیت مختلف عالمی اداروں کی رسدی زنجیر میں اہم مقام رکھتی ہے۔ اس تناظر میں تائیوان کی تجارتی کارکردگی کو عالمی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے رجحان سے بھی جوڑا جارہا ہے۔

درآمدات میں بھی بڑا اضافہ ہوا اور ستمبر میں ان کی قدر 51.7 فیصد بڑھ کر 63.59 ارب ڈالر ہوگئی۔ یہ اضافہ ماہرین کی 43.2 فیصد کی پیش گوئی سے زیادہ تھا۔ وزارت کے مطابق برآمدی نمو چوتھی سہ ماہی میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے اور اکتوبر میں سالانہ اضافہ تقریباً 40 سے 44 فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔ تاہم یہ اکتوبر کے بارے میں سرکاری پیش گوئی ہے، حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔

تائیوان کی تازہ تجارتی تصویر اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت میں توانائی کی قیمتوں، مہنگائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے متعلق خدشات موجود ہیں۔ ان خطرات کے باوجود ستمبر کے تصدیق شدہ تجارتی اعداد و شمار ٹیکنالوجی کی برآمدی طلب میں مضبوط اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ مستقبل کی طلب کا انحصار عالمی کاروباری فیصلوں اور معاشی حالات پر برقرار رہے گا۔