برلن: یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کی برآمدات اگست 2026 میں توقعات کے برعکس کم ہوگئیں، جس سے سال کی تیسری سہ ماہی میں معاشی سرگرمیوں کی رفتار کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں۔ جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات کے آٹھ اکتوبر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں برآمدات گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.8 فیصد کم ہوئیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ماہرین کے سروے میں اس کے برعکس 0.6 فیصد اضافے کی توقع کی جارہی تھی۔
تجارتی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا کو جرمن مصنوعات کی برآمدات جولائی کے مقابلے میں 6.3 فیصد کم ہوئیں۔ یورپی یونین کے ملکوں کو برآمدات میں 0.6 فیصد اور یورپی یونین سے باہر کی منڈیوں کو ترسیلات میں 1.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران برطانیہ کو برآمدات 16.7 فیصد جبکہ چین کو برآمدات 4.7 فیصد بڑھیں۔ یہ اعداد و شمار مختلف تجارتی مقامات کے نتائج میں نمایاں فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔
درآمدات اگست میں ماہانہ بنیاد پر 0.9 فیصد بڑھیں۔ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے نتیجے میں جرمنی کا تجارتی سرپلس جولائی کے 21.6 ارب یورو سے گھٹ کر اگست میں 19.5 ارب یورو رہ گیا۔ مذکورہ اعداد و شمار تقویمی اور موسمی اثرات کی مناسبت سے مرتب کیے گئے ہیں، اس لیے انہیں سادہ غیر ایڈجسٹ شدہ تجارتی رقم سے الگ سمجھنا چاہیے۔
آئی این جی کے عالمی میکرو اکنامک سربراہ کارسٹن برزیسکی نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ جرمنی کی معاشی مزاحمت اب تجارت کے شعبے میں کمزور ہوتی نظر آرہی ہے۔ جرمن صنعت و تجارت کے ادارے ڈی آئی ایچ کے کے عہدیدار فولکر ٹرائیر کے مطابق برآمدات کی بحالی پہلے ہی محدود تھی اور تازہ کمی سے اس کمزوری کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ ماہرین کے تجزیے ہیں، نہ کہ ادارہ شماریات کی جانب سے کساد بازاری کا باقاعدہ اعلان۔
جرمن معیشت نے سال کے پہلے نصف میں کچھ بہتری دکھائی تھی۔ روئٹرز کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مجموعی ملکی پیداوار 0.4 فیصد اور دوسری میں 0.3 فیصد بڑھی۔ تاہم توانائی کی بلند قیمتوں، ایران سے متعلق جنگ کے معاشی اثرات اور امریکی محصولات سے پیدا ہونے والی بے یقینی کے درمیان معاشی ماہرین کو تیسری سہ ماہی میں نسبتاً کمزور کارکردگی کی توقع ہے۔ وی پی بینک کے ماہر اقتصادیات تھامس گٹزل نے بھی معمولی معاشی نمو کا امکان ظاہر کیا۔
چین کے ساتھ جرمنی کی تجارت میں اگست کے دوران برآمدات 4.7 فیصد بڑھیں لیکن چین سے درآمدات میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف منڈیوں میں تجارتی بہاؤ یکساں رفتار سے نہیں چل رہا۔
اگست کے سرکاری اعداد و شمار جرمن صنعت کے لیے ایک محتاط اشارہ ہیں۔ ان سے برآمدی سرگرمی میں کمزوری ثابت ہوتی ہے لیکن پوری تیسری سہ ماہی کے مجموعی جی ڈی پی نتائج ابھی الگ اعداد و شمار کے ذریعے ہی طے ہوں گے۔
