اسلام آباد: سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے سندھ میں پانی، صفائی، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں سے متعلق متعدد منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن کے لیے مجموعی غیر ملکی فنانسنگ 895 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق منظوری 2 اکتوبر کو دی گئی اور منصوبوں میں دیہی پانی و صفائی کا ایک بڑا پروگرام بھی شامل ہے۔

سب سے بڑا منصوبہ سندھ ٹرانسفارمیشنل ایکسلریٹڈ رورل واٹر سپلائی، سینی ٹیشن اینڈ ہائی جین سروسز فیز ون، یا STAR WASH، ہے جس کی مجموعی فنانسنگ 450 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس کا مقصد دیہی آبادیوں میں محفوظ پانی، صفائی اور حفظان صحت کی خدمات کو بہتر بنانا ہے۔

منظور شدہ پیکج میں تعلیمی اور دیگر سماجی منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بڑا آبپاشی منصوبہ 50.99 ارب روپے کی تخمینی لاگت کے ساتھ زیر غور پیکج کا حصہ بتایا گیا ہے۔ مختلف منصوبوں کی مالی ساخت، قرض یا معاونت کی شرائط اور عمل درآمد کی مدت الگ الگ ہو سکتی ہے، اس لیے مجموعی 895 ملین ڈالر کو کسی ایک منصوبے کی لاگت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

سی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری وفاقی ترقیاتی عمل کا اہم مرحلہ ہے، تاہم بڑے منصوبوں کے لیے بعض صورتوں میں مزید فورمز، مالی معاہدوں، صوبائی انتظامات اور خریداری کے مراحل بھی درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے منظوری اور زمینی سطح پر مکمل عمل درآمد کے درمیان متعدد انتظامی مراحل باقی رہ سکتے ہیں۔

سندھ میں پینے کے پانی، نکاسی، صحت و صفائی اور تعلیمی سہولتوں کی بہتری صوبائی ترقیاتی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ نئی منظوری سے ان شعبوں میں بیرونی مالی وسائل کے استعمال کی راہ ہموار ہوئی ہے، جبکہ منصوبوں کی کامیابی کا انحصار شفاف خریداری، بروقت تکمیل، مقامی اداروں کی صلاحیت اور خدمات کے مستقل آپریشن پر ہوگا۔