اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 88 پیسے فی لیٹر اضافہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.88 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 6 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

نظرثانی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 397 روپے 76 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ حکومتی اعداد کے مطابق پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مجموعی شرح 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔

حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی تیل منڈی اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی، جبکہ اسی تاریخ کو پیٹرول کی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک گئی تھی۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں تبدیلی کے ساتھ دونوں مصنوعات کی قیمتیں نیچے آئیں۔

حکومت نے بڑھتے ہوئے عالمی توانائی اخراجات کے تناظر میں ایندھن کی بچت کے لیے بعض کفایتی اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے ہیں۔ ان میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کرنے کی پابندی اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی شامل ہے۔ حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے اہل صارفین کے لیے ہدفی ریلیف اسکیم بھی شروع کر رکھی ہے۔

پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہِ راست گھریلو آمدن اور شہری آمدورفت کے اخراجات پر اثر ڈالتی ہے۔ دوسری طرف ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بعض بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہونے کے باعث مال برداری اور کاروباری لاگت سے بھی جڑا ہوا ہے۔

پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک پہلے یہ بتا چکے ہیں کہ عالمی منڈی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے باعث حکومت نے ایندھن کی قیمتوں کا تعین یومیہ بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اوگرا کو بین الاقوامی رجحانات کے مطابق قیمتیں مقرر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔