اسلام آباد: پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 10.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں اور برآمدی کارکردگی سے متعلق دباؤ ایک بار پھر نمایاں ہوا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ رہا۔

اعدادوشمار کے مطابق سال بہ سال بنیاد پر تجارتی فرق میں تقریباً 1.4 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت برآمدات بڑھانے، درآمدی بل کو قابو میں رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تجارتی خسارے میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ درآمدی طلب اور برآمدی آمدن کے درمیان فاصلہ بدستور ایک اہم معاشی چیلنج ہے۔

پہلی سہ ماہی کے نتائج کو ملکی بیرونی کھاتے کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ درآمدات میں اضافہ اگر برآمدات اور دیگر زرمبادلہ آمدن کے متناسب اضافے کے بغیر ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کی ضروریات پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم تجارتی خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ کا صرف ایک جزو ہے اور ترسیلات زر، خدمات کی تجارت اور دیگر آمدن بھی مجموعی بیرونی کھاتے کی سمت متعین کرتی ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون نے سرکاری اعدادوشمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جولائی تا ستمبر کا خسارہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس مرحلے پر اعدادوشمار سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پورے مالی سال کا خسارہ لازماً اسی رفتار سے بڑھے گا، کیونکہ عالمی اجناس کی قیمتیں، توانائی کی درآمدات، مقامی طلب، شرح مبادلہ اور برآمدی آرڈرز آنے والے مہینوں میں صورت حال بدل سکتے ہیں۔

حکومت کے لیے اہم پالیسی سوال یہ ہوگا کہ معاشی سرگرمی کو متاثر کیے بغیر درآمدی ضروریات اور برآمدی مسابقت میں توازن کیسے قائم کیا جائے۔ پہلی سہ ماہی کے اعدادوشمار آئندہ مہینوں میں تجارتی پالیسی، برآمدی مراعات اور بیرونی مالی ضروریات سے متعلق فیصلوں کے لیے ایک اہم اشاریہ فراہم کرتے ہیں۔