اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو بتایا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے 110 ارب روپے سے زائد بجلی واجبات کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت ملنے والے حصص سے ایڈجسٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاور اور فنانس ڈویژنز نے واجبات کی وصولی کے لیے طریقہ کار پر کام کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے اس کے مالی اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کم از کم 110 ارب روپے کے واجبات کی مفاہمت ہو چکی ہے اور تقریباً 50 ارب روپے کی جلد وصولی کا ارادہ ہے۔ تاہم اس نوعیت کی کٹوتی کے لیے صوبائی حکومتوں کی تحریری رضامندی اور مرکزی بینک کو متعلقہ اختیار اہم عملی شرط ہے۔ ماضی میں صوبوں نے این ایف سی حصص سے اس طرح کی ایڈجسٹمنٹ کی مخالفت بھی کی ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ گفتگو میں بجلی کے گردشی قرضے، تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف کے مستقبل پر بھی بات ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1.675 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا تھا، جس پر فنڈ نے تشویش ظاہر کی۔

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ گفتگو جاری جائزہ مذاکرات کا حصہ ہے، اس لیے زیر بحث تجاویز کو حتمی نافذ شدہ فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ پاور ڈویژن کے ترجمان نے آئی ایم ایف مذاکرات سے متعلق مخصوص نکات پر تبصرے سے گریز کیا، جبکہ رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے بھی تفصیلی جواب سامنے نہیں آیا۔

اگر این ایف سی حصص سے واجبات کی وصولی کا طریقہ نافذ کیا جاتا ہے تو اس کے صوبائی نقد بہاؤ اور ترقیاتی اخراجات پر اثرات اہم ہوں گے۔ اسی وجہ سے صوبائی رضامندی، واجبات کی حتمی مفاہمت اور قانونی طریقہ کار اس منصوبے کے اگلے مرحلے کا تعین کریں گے۔