اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری جائزہ مذاکرات میں آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز، یعنی MEFP، کا پہلا مسودہ پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ جیو نیوز اور دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق فریقین اب اہم معاشی اہداف اور پالیسی اقدامات پر اتفاق رائے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے بعد اسٹاف لیول معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں جون 2026 تک گردشی قرضے کے 1.675 ٹریلین روپے تک پہنچنے پر تشویش ظاہر کی۔ فنڈ نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے موجودہ کراس سبسڈی ختم کرکے ہدفی معاونت کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے منتقل کرنے کی تجویز دی ہے، جس پر جنوری 2027 سے عمل درآمد کا امکان زیر بحث ہے۔
یہ نکات ابھی مذاکرات کا حصہ ہیں اور انہیں حتمی حکومتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے تخمینے پر بھی اختلاف موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف زیادہ بلند خسارے کا تخمینہ چاہتا ہے، جبکہ وزارت خزانہ اور سالانہ منصوبے میں مختلف اندازے موجود ہیں۔
ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس وصولی ہدف 15.264 ٹریلین روپے برقرار رکھنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ پہلی سہ ماہی میں ہدف سے کچھ زیادہ وصولی کے بعد فی الحال ایف بی آر کی جانب سے سالانہ ہدف میں کمی کی درخواست رپورٹ نہیں کی گئی۔ خودمختار ویلتھ فنڈ سے متعلق قانون سازی بھی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل ہے۔
آئی ایم ایف جائزہ مکمل ہونے اور اسٹاف لیول معاہدہ ہونے کے لیے فریقین کو MEFP کے متن اور مقداری اہداف پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اگر اسلام آباد میں اتفاق مکمل نہ ہوا تو مذاکرات ورچوئل طور پر جاری رہ سکتے ہیں۔ اس لیے موجودہ مرحلہ ایک مذاکراتی مسودے کا ہے، حتمی پروگرام شرائط اور رقوم کے اجرا کا فیصلہ بعد کے رسمی مراحل سے مشروط ہوگا۔

