اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے مجموعی طور پر تقریباً 116 ارب روپے مالیت کے سات ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا۔ وزارت اطلاعات کے سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پانچ منصوبوں کی منظوری دی گئی جن کی مجموعی لاگت 21.590 ارب روپے ہے، جبکہ دو بڑے منصوبوں، جن کی مجموعی مالیت 94.301 ارب روپے بنتی ہے، کو مزید غور اور منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ منصوبے حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ فریم ورک کے تحت مختلف شعبوں میں ترقیاتی سرگرمیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے سے متعلق ہیں۔ سی ڈی ڈبلیو پی وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی جانچ، منظوری اور بڑے منصوبوں کے بارے میں ایکنک کو سفارش کرنے والا اہم فورم ہے۔ اس لیے اجلاس میں منظور یا سفارش کیے گئے منصوبوں کا اگلا انتظامی مرحلہ ان کی نوعیت اور مالی حجم کے مطابق مختلف ہوگا۔ دو بڑے منصوبوں کے بارے میں سی ڈی ڈبلیو پی کی سفارش حتمی منظوری کے مترادف نہیں بلکہ انہیں ایکنک کے سامنے پیش کیے جانے کا مرحلہ ہے۔

اجلاس میں سیکریٹری منصوبہ بندی، چیف اکانومسٹ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر، پلاننگ کمیشن کے ارکان، وفاقی سیکریٹریز، صوبائی منصوبہ بندی و ترقی کے محکموں کے سربراہان اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے سینئر نمائندے شریک ہوئے۔ اس شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبوں کی جانچ میں وفاقی اور صوبائی سطح کے متعلقہ اداروں کو شامل کیا گیا۔

حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو معاشی سرگرمی، بنیادی ڈھانچے اور اصلاحات سے جوڑتے ہوئے انہیں قومی ترقیاتی ترجیحات کا حصہ قرار دیا ہے۔ تاہم ہر منصوبے کے عملی اثرات کا انحصار فنڈز کے بروقت اجرا، خریداری اور عملدرآمد کے طریقہ کار، مقررہ مدت میں تکمیل اور متعلقہ اداروں کی نگرانی پر ہوگا۔ سرکاری اعلامیے میں منظور شدہ اور ایکنک کو بھیجے گئے منصوبوں کی مجموعی مالی مالیت واضح کی گئی ہے، جبکہ انفرادی منصوبوں کے نتائج اور پیش رفت بعد کے نفاذی مراحل میں سامنے آئے گی۔