اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ کے کریک ڈاؤن کے دوران مختلف علاقوں میں 11 مراکز سیل کر دیے گئے ہیں۔ ڈیلی ٹائمز کی 11 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے تناظر میں کی گئی، جن کے بعد انتظامیہ نے شہر میں شیشہ کاروبار پر تاحکم ثانی مکمل پابندی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنرز کی نگرانی میں سیکٹر ای الیون میں تین، سوک سینٹر میں چھ اور سیکٹر آئی ایٹ میں دو شیشہ کیفے سیل کیے گئے۔ اس طرح کارروائی کی زد میں آنے والے مراکز کی مجموعی تعداد 11 بنتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے کہا کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ان ڈور شیشہ کیفوں کو جاری کیے گئے این او سیز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ایک روز قبل ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا تھا کہ پابندی کا اطلاق صرف بغیر اجازت چلنے والے مراکز تک محدود نہیں ہوگا بلکہ این او سی رکھنے والے کیفے اور ان ڈور یا آؤٹ ڈور دونوں اقسام کی شیشہ سرگرمیاں اس کے دائرے میں آئیں گی۔
یہ انتظامی اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیشہ کیفوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کے بعد سامنے آیا۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو اس کاروبار کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی ہدایت کی تھی اور اس مقصد کے لیے ایک ماہ کی مدت دی گئی تھی۔ عدالتی کارروائی میں یہ سوال زیر بحث رہا کہ مناسب ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر شیشہ کیفوں کو کس طرح چلنے دیا جا سکتا ہے۔
انتظامیہ نے اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے اپنے علاقوں میں روزانہ معائنے اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی ہدایات جاری کیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے مراکز کو سیل کیا جا سکتا ہے اور مالکان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
موجودہ کریک ڈاؤن ایک انتظامی اور عدالتی عملدرآمد کی کارروائی ہے۔ دستیاب معلومات میں کسی مخصوص کیفے مالک کے خلاف جرم ثابت ہونے کا عدالتی فیصلہ شامل نہیں، اس لیے سیلنگ اور ممکنہ مقدمات کو نفاذی اقدامات کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔ پابندی تاحکم ثانی برقرار رہنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ مستقبل میں شیشہ کیفوں کے لیے مستقل قواعد کی شکل عدالت کی ہدایت کے مطابق تیار ہونے والے ریگولیٹری فریم ورک سے واضح ہوگی۔




