اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے لازمی آئینی مشاورت شروع کرنے کی دعوت دی ہے۔ ڈان نے وزیراعظم کے قریبی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دعوت دے دی گئی ہے، تاہم محمود خان اچکزئی کی جانب سے فوری طور پر جواب سامنے نہیں آیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور تحریک انصاف کی قیادت میں اپوزیشن نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 213 کے تحت وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورت کرتے ہیں اور نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان اتفاق نہ ہو تو الگ الگ فہرستیں بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے وزیراعظم کی جانب سے قائد حزب اختلاف کو دعوت تقرری کے آئینی عمل کا ابتدائی اور ضروری حصہ ہے؛ یہ کسی امیدوار کی نامزدگی یا حتمی تقرری نہیں ہے۔
موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی پانچ سالہ مدت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو چکی ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی مدت بھی اسی تاریخ کو مکمل ہوئی تھی۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد آرٹیکل 215 میں شامل شق کے تحت عہدے دار اپنے جانشینوں کی تقرری تک کام جاری رکھ سکتے ہیں، اسی قانونی انتظام کے تحت موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور متعلقہ ارکان ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
ڈان کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے چند روز قبل ایوان میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی تھی کہ وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مشاورت کے لیے مدعو کرکے بات چیت کا آغاز کریں۔ اگست میں محمود خان اچکزئی بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر نئے چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان کے ارکان کی تقرری کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں نے موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ماضی کے فیصلوں پر سخت اعتراضات کیے ہیں، جن میں 2024 کے انتخابات سے قبل پارٹی کے انتخابی نشان سے متعلق فیصلہ بھی شامل ہے۔ یہ اعتراضات سیاسی فریق کے الزامات اور تنقید ہیں؛ موجودہ خبر کا بنیادی اور تصدیق شدہ نکتہ یہ ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے آئینی مشاورتی عمل کے لیے وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو مدعو کیا ہے اور اس عمل کے اگلے مرحلے کا انحصار مشاورت اور ممکنہ نامزدگیوں پر ہوگا۔




