اسلام آباد/ویانا: پاکستان اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے 1200 میگاواٹ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-5 کے لیے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ منصوبے کو بین الاقوامی حفاظتی نگرانی کے فریم ورک میں لانے کا اہم مرحلہ ہے اور پلانٹ کو 2028 میں بجلی کی پیداوار شروع کرنے کے ہدف کی طرف پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Business Recorder کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجا علی رضا انور اور IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے معاہدے پر دستخط کیے۔ چین کی اٹامک انرجی اتھارٹی کے چیئرمین ژانگ کیجیان بھی تقریب میں موجود تھے۔ دیگر پاکستانی رپورٹوں کے مطابق دستخط ویانا میں IAEA کے ہیڈکوارٹر میں ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر ہوئے۔
IAEA کے بورڈ آف گورنرز نے چشمہ-5 کے لیے سیف گارڈز معاہدے کی منظوری مارچ 2026 میں متفقہ طور پر دی تھی۔ سیف گارڈز کا مقصد اس بات کی بین الاقوامی تصدیق اور نگرانی ہے کہ متعلقہ جوہری مواد اور تنصیبات پرامن استعمال کے لیے رہیں اور طے شدہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ان کی نگرانی ہو۔
منصوبے کی تعمیر پر کام جاری ہے اور رپورٹ کے مطابق ری ایکٹر بلڈنگ کا گنبد مقررہ شیڈول سے پہلے نصب کیا جا چکا ہے۔ چشمہ-5 مکمل ہونے پر پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی نیوکلیئر پاور یونٹ بنے گا اور 1200 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
پاکستان اس وقت چھ جوہری بجلی گھر چلا رہا ہے جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت تقریباً 3530 میگاواٹ بتائی گئی ہے۔ چشمہ-5 کے اضافے سے نیوکلیئر بجلی کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ حکام اس منصوبے کو کم کاربن بجلی، توانائی کے ذرائع میں تنوع اور طویل مدت میں گرڈ کی قابلِ اعتماد فراہمی کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
تقریب کے موقع پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور چینی اٹامک انرجی حکام کے درمیان پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں مستقبل کے تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ چین چشمہ نیوکلیئر کمپلیکس سمیت پاکستان کے سول نیوکلیئر توانائی پروگرام کا طویل عرصے سے شراکت دار ہے۔ موجودہ پیش رفت سیف گارڈز کے بین الاقوامی قانونی و نگرانی کے مرحلے سے متعلق ہے؛ پلانٹ کی تجارتی آپریشن تاریخ تعمیر، آزمائش اور ریگولیٹری مراحل کی تکمیل سے مشروط رہے گی۔
