چین نے اپنے مستقل تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے لیے خلابازوں کا نیا عملہ شینژو خلائی جہاز کے ذریعے روانہ کر دیا ہے۔ مشن کو شمال مغربی چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔ چینی خلائی پروگرام کے مطابق خلاباز مدار میں موجود عملے کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور طے شدہ مدت کے دوران سائنسی اور تکنیکی سرگرمیاں انجام دیں گے۔

تیانگونگ خلائی اسٹیشن چین کے انسانی خلائی پروگرام کا مرکزی منصوبہ ہے اور اسے زمین کے نچلے مدار میں مستقل طور پر چلانے کے لیے باقاعدگی سے عملہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ نئے خلابازوں کی ذمہ داریوں میں خلائی حیاتیات، مائیکرو گریویٹی، مواد کی سائنس اور خلائی طب سے متعلق تجربات کے ساتھ اسٹیشن کے نظاموں کی دیکھ بھال اور ممکنہ بیرونی خلائی سرگرمیاں شامل ہیں۔

چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے انسانی خلائی پروگرام کو مرحلہ وار وسعت دی ہے۔ شینژو خلائی جہاز خلابازوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ تیانژو کارگو جہاز خوراک، آلات اور دیگر رسد پہنچاتے ہیں۔ تیانگونگ کی بنیادی ساخت تین ماڈیولز پر مشتمل ہے اور چین اسے طویل مدت تک سائنسی تحقیق کے پلیٹ فارم کے طور پر برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بیجنگ نے بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے بھی اسٹیشن کے بعض تجرباتی مواقع کھولنے کی بات کی ہے۔ دوسری جانب امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پروگرام میں چین شامل نہیں، جس کے باعث تیانگونگ چین کے لیے آزاد انسانی خلائی بنیادی ڈھانچے کی حیثیت رکھتا ہے۔

نئے مشن کی کامیابی کا اگلا اہم مرحلہ شینژو خلائی جہاز کا تیانگونگ سے محفوظ خودکار ملاپ اور عملے کی منتقلی ہے۔ اس کے بعد موجودہ اور نئے خلاباز کچھ عرصہ مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں تاکہ نظاموں اور جاری تجربات کی ذمہ داریاں منتقل کی جا سکیں۔ خلائی پرواز کے ہر مرحلے میں لانچ، ڈاکنگ، مدار میں قیام اور واپسی الگ عملی خطرات رکھتے ہیں، اس لیے حتمی مشن کامیابی کا جائزہ عملے کی محفوظ واپسی کے بعد ہی مکمل ہوتا ہے۔