واشنگٹن: ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے تقریباً 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی یا بائے آؤٹ پیکجز کی پیشکش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کے لگ بھگ 27 فیصد کے برابر ہے، جس سے یہ حالیہ برسوں میں بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے افرادی قوت کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیوں میں شمار ہوتی ہے۔

رضاکارانہ اخراج پیکج روایتی جبری برطرفی سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اہل ملازمین کو مالی مراعات یا دیگر شرائط کے ساتھ اپنی مرضی سے ملازمت چھوڑنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کمپنیاں براہ راست بڑے پیمانے کی layoffs کے بجائے اخراجات اور افرادی قوت کم کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ تمام 60 ہزار اہل ملازمین کا پیشکش قبول کرنا ضروری نہیں، اس لیے اس عدد کو متوقع حتمی ملازمتوں کی کمی کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

مائیکروسافٹ سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ایسے سرمایہ جاتی اخراجات کے ساتھ انتظامیہ روایتی کاروباری شعبوں، انتظامی ڈھانچے اور ملازمین کی تعداد کا ازسرنو جائزہ بھی لے رہی ہے۔ موجودہ بائے آؤٹ پروگرام اسی وسیع صنعتی رجحان کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں اس پیش رفت کے ساتھ نیٹ فلکس میں تقریباً ایک ہزار ملازمتیں کم کرنے کی اطلاعات کا بھی ذکر ہے، جو ٹیک اور میڈیا کمپنیوں میں اخراجات کے نظم اور تنظیم نو کے جاری رجحان کی مثال ہے۔ تاہم دونوں کمپنیوں کے اقدامات الگ فیصلے ہیں اور انہیں ایک مشترکہ پروگرام یا مربوط اقدام نہیں سمجھنا چاہیے۔

مائیکروسافٹ کی پیشکش کا اصل روزگار اثر اس وقت واضح ہوگا جب رضاکارانہ پیکج قبول کرنے والے ملازمین کی تعداد سامنے آئے گی اور کمپنی یہ بتائے گی کہ کون سے شعبے زیادہ متاثر ہوئے۔ فی الحال 60 ہزار کا عدد پیشکش کے دائرے کی نشاندہی کرتا ہے، حتمی علیحدگیوں کی تعداد کی نہیں۔