اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کو تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولت اور سرکاری خدمات بہتر بنانے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو علی بابا گروپ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کے منصوبوں پر واضح اہداف اور مقررہ مدت کے مطابق عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں معیشت اور گورننس میں اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے علی بابا کے تعاون سے سرطان کی جلد تشخیص کے لیے اے آئی معاون نظام جلد نافذ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزارت آئی ٹی کے Ignite پروگرام کے تحت آئی ٹی گریجویٹس کے لیے علی بابا کے اشتراک سے 15 روزہ اے آئی تربیتی پروگرام شروع کرنے کو بھی کہا۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ضروری اقدامات نومبر تک مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو علی بابا کے تعاون سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے لیے analytics system متعارف کرانے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے اوگرا کو اے آئی ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ایکسپورٹ پروموشن بورڈ کو بھی علی بابا کے ساتھ مل کر پاکستانی برآمدات بڑھانے پر کام کرنے کو کہا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ زراعت کے لیے اے آئی ماڈلز، تمباکو کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور کینو و زیتون کی برآمد میں سہولت دینے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام جاری ہے۔ پاکستانی مصنوعات کو عالمی خریداروں تک پہنچانے کے لیے علی بابا کے پلیٹ فارم پر مخصوص پاکستان پویلین قائم کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال ہونے کی اطلاع بھی دی گئی۔

حکام کے مطابق سمیڈا اور علی بابا کے اشتراک سے دو سالہ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو عالمی منڈیوں، تربیت اور ای کامرس مواقع تک رسائی دینا ہے۔ اجلاس میں ایف بی آر اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور مرکزی ڈیٹا ہب کی پیش رفت بھی دیکھی گئی۔ یہ اقدامات مختلف مراحل میں ہیں؛ ان کے معاشی یا انتظامی نتائج کا تعین عملی نفاذ اور بعد کی کارکردگی کے اعدادوشمار سے ہوگا۔