اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ علی بابا گروپ کے ساتھ پاکستان میں جاری اور مجوزہ منصوبوں کے لیے واضح اہداف اور قابل پیمائش ٹائم لائنز مقرر کی جائیں تاکہ تعاون کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔ ہدایات اسلام آباد میں ہونے والے ایک جائزہ اجلاس کے دوران دی گئیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون سے متعلق مختلف منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبوں کے نفاذ میں ذمہ داریوں، اہداف اور مدت کا تعین واضح ہونا چاہیے تاکہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی نگرانی کی جا سکے اور تاخیر سے بچا جا سکے۔

حکومت پاکستان ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، برآمدات اور مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ علی بابا دنیا کے بڑے ڈیجیٹل کامرس اور ٹیکنالوجی گروپس میں شمار ہوتا ہے، اور پاکستانی کاروباروں کے لیے آن لائن منڈیوں تک رسائی، ڈیجیٹل ادائیگی، لاجسٹکس، تربیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبوں میں تعاون کے امکانات زیر بحث رہے ہیں۔

وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو منصوبوں کے عملی پہلوؤں پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔ سرکاری بیان میں ہر منصوبے کی مکمل مالی مالیت یا حتمی تجارتی شرائط بیان نہیں کی گئیں، اس لیے تعاون کے ممکنہ معاشی اثرات کا حتمی اندازہ منصوبوں کی تفصیلی منظوری اور نفاذ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بین الاقوامی ڈیجیٹل منڈیوں سے جوڑنا برآمدی تنوع کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے پلیٹ فارمز پاکستانی مصنوعات کو بیرون ملک خریداروں تک پہنچنے کا موقع دے سکتے ہیں، تاہم کامیابی کے لیے مصنوعات کے معیار، ڈیجیٹل مہارت، ادائیگی کے نظام، کسٹمز، لاجسٹکس اور ڈیٹا تحفظ جیسے معاملات بھی اہم رہتے ہیں۔

وزیراعظم کی ہدایت کا مرکزی مقصد منصوبوں کو عمومی مفاہمت سے نکال کر واضح اہداف اور وقت کے پابند نفاذ کی طرف لے جانا ہے۔ آئندہ پیش رفت متعلقہ سرکاری اداروں اور علی بابا گروپ کے درمیان طے ہونے والے عملی اقدامات اور ان کے نفاذ سے واضح ہوگی۔