لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لاہور کے تین علاقوں میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 42 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق چھاپے گارڈن ٹاؤن، گلبرگ اور او پی ایف سوسائٹی میں مارے گئے اور گرفتار افراد میں 11 خواتین بھی شامل ہیں۔ تمام گرفتار افراد کے کردار کا حتمی تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کے مطابق گارڈن ٹاؤن میں 22 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 10 خواتین شامل تھیں۔ وہاں سے 19 لیپ ٹاپ، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور 24 موبائل فون قبضے میں لیے گئے۔ گلبرگ میں سات افراد، جن میں ایک خاتون شامل تھی، کو حراست میں لیا گیا اور 28 لیپ ٹاپ اور 12 موبائل فون برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

او پی ایف سوسائٹی میں کارروائی کے دوران 13 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ 20 لیپ ٹاپ، 14 موبائل فون اور دو سرور سسٹمز قبضے میں لیے گئے۔ ایجنسی کے مطابق تمام ڈیجیٹل آلات کو فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ ان میں موجود ڈیٹا، سافٹ ویئر، رابطوں اور ممکنہ مالی لین دین کا جائزہ لیا جا سکے۔

ابتدائی تفتیش کے حوالے سے این سی سی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ یہ کال سینٹرز بیرون ملک صارفین، بالخصوص امریکی شہریوں، کو موبائل فون اپ گریڈ، ٹیلی کمیونیکیشن پیکیجز اور سم سے متعلق خدمات کی پیشکش کے بہانے ہدف بناتے تھے۔ حکام کا الزام ہے کہ بعض افراد خود کو امریکی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نمائندوں کے طور پر پیش کرتے اور صارفین کی مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ الزامات ابھی تفتیشی مرحلے میں ہیں اور عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔

عاطف امیر کے مطابق گارڈن ٹاؤن سے حاصل کیے گئے ڈیجیٹل مواد کی ابتدائی جانچ میں ڈائلر سافٹ ویئر اور مشتبہ سرگرمیوں سے منسلک ڈیٹا ملا ہے۔ فارنزک تجزیے سے یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ کس ڈیوائس یا اکاؤنٹ کو کس سرگرمی کے لیے استعمال کیا گیا اور مبینہ غیر مجاز لین دین کی نوعیت کیا تھی۔

ایجنسی نے کہا ہے کہ تفتیش میں ہر گرفتار شخص کا انفرادی کردار، مالی رقوم کی ممکنہ منتقلی اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں یا منتظمین کے روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سائبر فراڈ کے مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے ضبط شدہ آلات کے فارنزک نتائج اور مالی ریکارڈ کے بغیر الزامات کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔