چترال: اپر چترال کی اویر وادی میں ایک 55 سالہ پیراگلائیڈر کے لاپتہ ہونے کے بعد ریسکیو ٹیموں، مقامی رضاکاروں اور انتظامیہ نے بروم کی بلند اور دشوار گزار پہاڑیوں میں تلاش کا آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ لاپتہ شخص کی شناخت آصف محمود کے نام سے ہوئی ہے، جو واہ کینٹ کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔ حکام اور مقامی پیراگلائیڈنگ نمائندوں کے مطابق خراب موسم کے باعث علاقے میں تلاش کا کام مشکل حالات میں کیا جا رہا ہے۔

پیراگلائیڈرز ایسوسی ایشن اپر چترال کے صدر ظہیرالدین بابر کے مطابق آصف محمود چھ رکنی گروپ کا حصہ تھے جس نے جمعرات کی دوپہر ہندوکش کے بلند پہاڑی سلسلے میں تریچ میر کے قریب زینی پاس سے پرواز شروع کی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد موسم اچانک خراب ہوا۔ گروپ کے پانچ ارکان محفوظ مقام پر اترنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ آصف محمود چترال شہر کی سمت پرواز کرتے رہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق پرواز شروع ہونے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک آصف محمود سے ریڈیو رابطہ برقرار رہا، جس کے بعد ان کا سگنل بند ہوگیا۔ مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ وہ دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوئے ہوں یا حادثے کا شکار ہوئے ہوں، تاہم ان میں سے کسی امکان کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے تلاش مکمل ہونے تک ان کے مقام یا حالت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ریسکیو 1122 نے لاپتہ ہونے کی اطلاع کے بعد سرچ آپریشن شروع کیا تھا، لیکن رات کے وقت اندھیرے اور کم حدِ نگاہ کے باعث کارروائی عارضی طور پر روکنا پڑی۔ جمعہ کی صبح آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا۔ مقامی رضاکار اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار بھی ریسکیو ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں، جبکہ پہاڑی جغرافیہ اور بدلتے موسمی حالات سرچ ٹیموں کے لیے اہم چیلنج ہیں۔

اپر چترال اور گلگت بلتستان کے بلند پہاڑی علاقے پیراگلائیڈنگ اور دیگر فضائی مہماتی سرگرمیوں کے لیے معروف ہیں، مگر اچانک موسم کی تبدیلی، تیز ہوائیں، محدود مواصلاتی رابطہ اور مشکل زمینی رسائی کسی حادثے کی صورت میں امدادی کارروائی کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال گلگت کے نگر میں رش جھیل کے قریب دو امریکی پیراگلائیڈرز کریش لینڈنگ میں زخمی ہوئے تھے۔

تازہ واقعے میں ریسکیو اداروں نے اب تک آصف محمود کی بازیابی یا کسی حادثے کی تصدیق نہیں کی۔ دستیاب معلومات کے مطابق کارروائی کا مقصد ان کے ممکنہ پرواز راستے اور بروم پہاڑیوں کے متعلقہ حصوں میں تلاش کو جاری رکھنا ہے، اور مزید مصدقہ تفصیلات سرچ ٹیموں کی پیش رفت کے بعد سامنے آئیں گی۔