لاہور: پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے 13 مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مجموعی طور پر 98 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 98 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان میں سے 13 کو مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں سے روابط کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتاریاں لاہور، سرگودھا، گجرات، پاکپتن، راولپنڈی، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، خوشاب، چنیوٹ اور خانیوال سمیت مختلف اضلاع میں کی گئیں۔ محکمے نے دعویٰ کیا کہ زیرِ حراست افراد میں سے بعض کے روابط فتنہ الخوارج اور دیگر کالعدم تنظیموں سے تھے۔ ایک گرفتار شخص واجد کے بارے میں سی ٹی ڈی نے الزام عائد کیا کہ اس کا تعلق بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے تھا۔ یہ دعوے تفتیشی ادارے کے ہیں اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک زیرِ حراست افراد کو ملزم ہی سمجھا جائے گا۔
حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایک ہزار 990 گرام دھماکا خیز مواد، 12 ڈیٹونیٹر، 35 فٹ سیفٹی فیوز، تین دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات، ایک دستی بم، بعض کالعدم تنظیموں سے منسوب پمفلٹ اور رسائل، موبائل فون اور نقد رقم قبضے میں لی گئی۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان کے خلاف 13 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان انٹیلی جنس کارروائیوں کے علاوہ سی ٹی ڈی نے مقامی پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر صوبہ بھر میں ایک ہزار 590 کومبنگ آپریشنز بھی کیے۔ ان کارروائیوں میں 55 ہزار 416 افراد کو چیک کیا گیا، 52 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 45 ایف آئی آر درج ہوئیں اور 40 مختلف برآمدگیاں رپورٹ کی گئیں۔
سی ٹی ڈی پنجاب نے شہریوں سے کہا ہے کہ مشتبہ سرگرمی یا دہشت گردی سے متعلق معلومات محکمے کی ہیلپ لائن پر فراہم کریں۔ تازہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب قانون نافذ کرنے والے ادارے پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ممکنہ سکیورٹی خطرات کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ اور کومبنگ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ زیرِ حراست افراد کے خلاف حتمی ذمہ داری یا سزا کا تعین متعلقہ عدالتیں قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد کریں گی۔
