لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے بچوں کے نان نفقے سے متعلق ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بچے کا مالی کفالت اور نان نفقہ حاصل کرنے کا حق والدین یا سرپرست کی رضامندی سے ختم، ترک یا کم نہیں کیا جا سکتا۔ دی نیوز کے مطابق جسٹس محمد عثمان غنی رشید چیمہ نے زیرِ سماعت مقدمے میں سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھیج دیا تاکہ بچوں کی ضروریات، فلاح، والد کی مالی استطاعت اور سماجی حیثیت کو دیکھتے ہوئے نان نفقے کا ازسرنو تعین کیا جائے۔
عدالت کے سامنے بتایا گیا کہ فیملی کورٹ نے 24 جنوری 2026 کے حکم میں ایک لڑکی اور اس کے چھوٹے بھائی کے لیے فی کس 30 ہزار روپے ماہانہ نان نفقہ مقرر کیا تھا اور یہ رقم ان کی والدہ کی رضامندی کی بنیاد پر طے کی گئی تھی۔ بعد میں ڈسٹرکٹ جج سرگودھا نے 26 مارچ 2026 کو اس فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ نے بچوں کی حقیقی ضروریات اور والد کی مالی پوزیشن کا آزادانہ جائزہ لیے بغیر صرف والدہ کے بیان پر انحصار کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اسی تنازع سے متعلق ایک سابق مقدمے میں 2012 میں فی بچہ 50 ہزار روپے ماہانہ نان نفقہ مقرر کیا گیا تھا اور اس میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شرط بھی تھی، تاہم بعد میں والدہ نے عدالت کی اجازت لیے بغیر ایسی رضامندی ظاہر کی جو، ان کے مؤقف کے مطابق، بچوں کے مفاد کے خلاف تھی۔ دوسری جانب والد کے وکیل نے دلیل دی کہ دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے معاملہ طے کیا تھا اور والدہ نے حلفاً طے شدہ رقم قبول کی، اس لیے بعد میں اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ نان نفقے کا قانونی حق والدین کا نہیں بلکہ بچے کا ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق سرپرست محض بچے کی نمائندگی کرتا ہے، وہ اس حق کا مالک نہیں بن جاتا اور اسے ختم یا کم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نابالغ کے حقوق سے متعلق کسی سمجھوتے کے لیے عدالت کی اجازت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور بغیر اجازت ایسا سمجھوتہ بچے کے خلاف مؤثر نہیں ہو سکتا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ فیملی کورٹ پر لازم ہے کہ والدین کے درمیان کسی رضامندی یا سمجھوتے کو خودکار طور پر منظور کرنے کے بجائے بچے کے بہترین مفاد کا الگ اور آزادانہ جائزہ لے۔ بچوں کے حقوق کو والدین کے باہمی تنازعات میں سودے بازی کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے سابقہ فیصلہ ختم کر کے فیملی کورٹ کو ہدایت دی کہ نئے سرے سے شواہد اور متعلقہ مالی حالات کا جائزہ لے کر نان نفقے کا تعین کرے۔
