کراچی: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی نے رسالپور، پشاور کے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون جانے والے کنٹینر میں بڑے پیمانے پر مبینہ غلط ڈیکلریشن کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کسٹمز کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کنٹینر میں موجود سامان کی مالیت تقریباً 68 کروڑ 80 لاکھ روپے لگائی گئی ہے، جبکہ اس پر ممکنہ ڈیوٹی اور ٹیکس کا تخمینہ تقریباً 16 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کمیونیکیشن اینڈ پبلک ریلیشنز، کسٹمز کے مطابق مخصوص معلومات ملنے کے بعد 19 اکتوبر کو ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ آپریشنز کراچی اور کلکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ SAPT نے مشترکہ طور پر کھیپ کی جانچ کی۔ درآمدی دستاویزات میں سامان کو ’مشین پریس پارٹس‘ ظاہر کیا گیا تھا، لیکن جسمانی معائنے کے دوران کنٹینر سے لوڈ سیلز برآمد ہوئے۔

کسٹمز کے مطابق متعلقہ درآمد کنندہ 2021 سے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی کا لائسنس رکھتا ہے، جس میں مصنوعی پھول اور پودے بنانے کی سرگرمی شامل تھی۔ بعد میں 2022 میں ایل ای ڈی ٹی وی کی تیاری اور 2025 میں سوٹ کیسز اور بیگز کو بھی لائسنس یافتہ سرگرمیوں میں شامل کیا گیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ زیر جانچ سامان بادی النظر میں نہ تو اعلان کردہ تفصیل سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی درآمد کنندہ کی منظور شدہ پیداواری سرگرمیوں سے۔

رپورٹ کے مطابق سامان کی قدر ویلیوایشن رولنگ نمبر 861/2016 کے تحت تقریباً 688 ملین روپے مقرر کی گئی۔ کسٹمز حکام نے اسے بادی النظر میں نمایاں غلط ڈیکلریشن کا معاملہ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 اور متعلقہ قواعد کے تحت خلاف ورزی کی کارروائی اور ایف آئی آر شروع کی جا رہی ہے۔

یہ الزامات ابھی کسٹمز کی ابتدائی کارروائی اور بادی النظر تشخیص کی سطح پر ہیں؛ حتمی قانونی ذمہ داری متعلقہ تفتیش، جواب دہی اور عدالتی یا مجاز کسٹمز فورم کے فیصلے سے طے ہوگی۔ اس لیے ضبط شدہ سامان کی نوعیت اور ممکنہ ٹیکس نقصان کے سرکاری تخمینوں کو حتمی جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔