اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 12 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کو افغانستان سے منسلک دہشت گردی کے مسلسل خطرات کا سامنا ہے اور ان خطرات کو مزید نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پر حملوں میں ملوث دہشت گرد عناصر اور ان کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی ضروری ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سرحد پار موجود خطرات صرف پاکستان کی داخلی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ وزیر خارجہ نے افغان طالبان سے اپنے اعلانات اور وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
خطاب میں اسحاق ڈار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کو ایسے دستاویزی مواد پر مشتمل ڈوزیئر فراہم کیے ہیں جن میں ان کے بقول افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی بھارتی سرپرستی کی تفصیلات شامل ہیں۔ یہ پاکستانی وزیر خارجہ کا بیان اور الزام ہے؛ دستیاب رپورٹ میں ان دستاویزات کی آزادانہ جانچ یا متعلقہ فریقوں کا جواب شامل نہیں، اس لیے اسے ثابت شدہ عدالتی یا بین الاقوامی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کثیرالجہتی تعاون مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کررہا ہے۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد اس مسئلے کو دوطرفہ رابطوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سفارتی فورمز پر اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اس خطاب میں کسی نئے معاہدے، مشترکہ آپریشن یا فوری سفارتی فیصلے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
افغانستان سے منسلک سلامتی کے معاملات پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سرحدی انتظام دونوں کے لیے اہم ہیں۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے افغان طالبان سے کارروائی کا مطالبہ ایک سیاسی و سفارتی مؤقف ہے؛ اس کی عملی پیش رفت کا اندازہ آئندہ سرکاری رابطوں، قابلِ تصدیق اقدامات اور متعلقہ فریقوں کے ردعمل سے ہی لگایا جاسکے گا۔
فی الحال اس واقعے کی مصدقہ خبر یہ ہے کہ وزیر خارجہ نے اسلام آباد کے سیمینار میں افغان سرزمین کے استعمال، مبینہ دہشت گرد پناہ گاہوں اور بین الاقوامی تعاون پر اپنا مؤقف بیان کیا۔ پاکستان کی طرف سے لگائے گئے مخصوص الزامات کی آزادانہ تصدیق کو اس خبر سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
