اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد اجتماعی بازدار، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام ہے اور اس کے پیچھے کسی قسم کے علاقائی توسیعی عزائم نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ مؤقف عرب نیوز چینل العربیہ انگلش کو دیے گئے انٹرویو میں بیان کیا، جسے پاکستانی خبر رساں اداروں نے 16 ستمبر کو رپورٹ کیا۔
Express Tribune کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے معاہدے کو ”خالصتاً دفاعی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جارحانہ کارروائی، کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت یا کسی تیسرے فریق کے خلاف پیشگی اقدام کا تصور شامل نہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کی بنیادی منطق یہ ہے کہ شریک ممالک ایک دوسرے کے خلاف جارحیت روکنے کے لیے اجتماعی بازدار کی صلاحیت مضبوط کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شریک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو ردعمل کی نوعیت اور عملی اقدامات تینوں ممالک کی قیادت اور متعلقہ ریاستی ادارے حالات کے مطابق طے کریں گے۔ انہوں نے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق تفصیلی فوجی یا آپریشنل انتظامات عوامی طور پر بیان نہیں کیے۔ اس لیے موجودہ بیان کو معاہدے کے سیاسی و دفاعی مقصد کی وضاحت سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی مخصوص مشترکہ فوجی منصوبے یا فوری کارروائی کا اعلان۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بھی کہا کہ یہ بندوبست پاکستان کے دوسرے دفاعی اور سفارتی تعلقات، جن میں چین کے ساتھ روابط بھی شامل ہیں، کے متبادل کے طور پر نہیں بنایا گیا۔ ان کے مطابق اسے کسی مخصوص مذہبی بلاک یا ”مسلم اتحاد“ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، بلکہ اسے علاقائی استحکام اور عدم جارحیت کے اصولوں سے جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں دیگر ریاستوں کی شمولیت کا معاملہ متعلقہ سیاسی قیادتوں کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔
The Nation نے بھی انٹرویو کی رپورٹنگ کرتے ہوئے یہی مؤقف نقل کیا کہ معاہدہ جارحانہ اتحاد کے بجائے دفاعی تعاون اور collective deterrence پر مبنی ہے۔ پاکستانی حکام کی یہ تشریح معاہدے کے مقاصد کے بارے میں سرکاری موقف ہے؛ عملی اطلاق، کسی بحران میں شراکت داروں کے فرائض اور باہمی معاونت کی مخصوص حدود کا انحصار معاہدے کی شرائط اور آئندہ ریاستی فیصلوں پر ہوگا۔
انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کے اس مؤقف کو دہرایا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ موجودہ خبر کا مرکزی واقعہ مکہ دفاعی معاہدے کی نوعیت سے متعلق ان کی تازہ وضاحت ہے، جس میں انہوں نے اسے کسی جارحانہ علاقائی منصوبے کے بجائے دفاعی تعاون کے فریم ورک کے طور پر بیان کیا۔
