ڈیرہ اسماعیل خان: سکیورٹی فورسز نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے زرکانی علاقے میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں چھ مبینہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو اہلکار شہید ہوئے۔ یہ تفصیلات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے جاری کیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ فوج کے بیان میں مارے گئے افراد کو فتنہ الخوارج سے منسلک اور بھارتی سرپرستی یافتہ قرار دیا گیا۔ یہ نسبت پاکستانی فوجی حکام کا سرکاری مؤقف ہے۔ آزاد ذرائع سے ان افراد کی شناخت یا مبینہ بیرونی معاونت کی الگ تصدیق رپورٹ کے وقت دستیاب نہیں تھی۔

فوجی بیان کے مطابق آپریشن کے دوران ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں نائیک غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد نے جانیں دیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ مارے گئے افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا اور وہ سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں مزید ممکنہ مسلح عناصر کی موجودگی ختم کرنے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کارروائی جاری ہے۔ فوج نے آپریشن کو ملک میں جاری انسداد دہشت گردی مہم اور عزم استحکام کے تحت کارروائیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھی جائے گی۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ بیانات میں کارروائی میں حصہ لینے والی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ واقعے سے متعلق بنیادی عملی تفصیلات آئی ایس پی آر کے بیان پر مبنی ہیں۔