فرینکفرٹ: یورپی مرکزی بینک (ECB) کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے اپنی مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق لاگارڈ 7 فروری کو منصب سے الگ ہوں گی، جبکہ ان کی موجودہ مدت اکتوبر 2027 تک جاری رہنا تھی۔ اس فیصلے کے بعد یورو زون کے اہم ترین مالیاتی ادارے کی نئی قیادت کے انتخاب کا عمل فوری طور پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
لاگارڈ نے کہا کہ مرکزی بینک کی سربراہی کے ساتھ منسلک غیر جانب داری کی پابندیاں انہیں عالمی واقعات اور وسیع تر عوامی معاملات پر آزادانہ طور پر اظہار خیال سے روکتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ اب اپنے طویل بین الاقوامی مالیاتی اور پالیسی تجربے کو ایسے موضوعات پر زیادہ آزادانہ طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں جو براہ راست مانیٹری پالیسی کے دائرے سے باہر ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ECB کی آزادی اور اس کے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے موجودہ عہدے پر یہ حدود ضروری ہیں۔
لاگارڈ نومبر 2019 سے یورپی مرکزی بینک کی قیادت کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ اور فرانس کی وزیر خزانہ رہ چکی ہیں۔ ان کے دور میں یورو زون کو کورونا وبا، توانائی کی قیمتوں کے جھٹکوں، بلند افراط زر اور شرح سود میں بڑی تبدیلیوں جیسے غیر معمولی معاشی حالات کا سامنا رہا۔
ان کے استعفے کا اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب ECB نے شرح سود 2.5 فیصد پر برقرار رکھی، تاہم بڑھتی توانائی قیمتوں کے باعث افراط زر کے خطرات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ پالیسی ساز دسمبر میں شرح سود میں ممکنہ اضافے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ اس ماحول میں نئی قیادت کو قیمتوں کے استحکام، کمزور معاشی نمو اور رکن ممالک کے مختلف مالی حالات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
لاگارڈ نے ادارے کے عملے اور منڈیوں کو یقین دلایا کہ قیادت کی تبدیلی سے ECB کے کام میں خلل نہیں آئے گا اور ادارہ جاتی نظام مضبوط ہے۔ ممکنہ جانشینوں کے بارے میں یورپی سطح پر مشاورت متوقع ہے، جبکہ حتمی انتخاب یورپی یونین کے متعلقہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔ قبل از وقت رخصتی نے مرکزی بینکوں کی سیاسی غیر جانب داری اور ان کے سربراہان کے عوامی کردار پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
