وفاقی حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی کے لیے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی، سمیڈا، کے اصلاحاتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 2 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی، ای سی سی، نے وزارت صنعت و پیداوار کی سمری پر مالی سال 2026-27 کے دوران یہ رقم ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منظوری دی۔
وزارت صنعت و پیداوار نے ای سی سی کو بتایا کہ وزیراعظم نے سمیڈا کو زیادہ متحرک، جوابدہ اور نتائج پر مبنی ادارہ بنانے کے لیے بزنس پلان کی منظوری دی تھی۔ منصوبے کا ہدف چھوٹے، درمیانے اور مائیکرو کاروباروں کی پائیدار ترقی، جدید کاری، پیداواری صلاحیت اور مسابقت بڑھانے پر ادارے کی توجہ مضبوط کرنا ہے۔
وزارت کے مطابق وفاقی بجٹ 2026-27 میں سمیڈا کے منظور شدہ اقدامات کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ اس رقم کے استعمال کے لیے ایک تفصیلی کیش پلان بھی تیار کیا گیا ہے، جس میں مختلف مداخلتوں کے اہداف، متوقع اخراجات اور موجودہ مالی سال کے دوران فنڈنگ کی ضروریات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ رقم کو مخصوص مقاصد کے لیے شفاف اور قابل احتساب انداز میں استعمال کرنے کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان کی لاہور مین برانچ میں ایک الگ اسائنمنٹ اکاؤنٹ رکھا گیا ہے، جو اے جی پی آر کے متعلقہ انتظامی نظام کے تحت ہوگا۔
فنانس ڈویژن نے سمیڈا کے لیے 2 ارب روپے کے اجرا سے اتفاق کیا تھا، تاہم بجٹ میں مطلوبہ فراہمی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے ہونا تھی، جس کے لیے ای سی سی کی منظوری ضروری تھی۔ وزارت صنعت نے اسی بنیاد پر سمری پیش کی اور کمیٹی نے تجویز منظور کر لی۔
یہ منظوری خود بخود چھوٹی صنعت کی بحالی کے نتائج کی ضمانت نہیں دیتی، بلکہ اصلاحاتی پروگرام کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔ اصل اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سمیڈا منظور شدہ منصوبوں کو کس رفتار اور معیار سے نافذ کرتا ہے، کتنے چھوٹے کاروباروں تک معاونت پہنچتی ہے، اور پیداواری صلاحیت، روزگار اور مسابقت میں قابل پیمائش بہتری آتی ہے یا نہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ایس ایم ای شعبہ معاشی نمو اور نئی افرادی قوت کے لیے روزگار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

