اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے عمل کو آگے بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے اپنے دفتر کو ہدایت کی ہے کہ ان اضلاع کے لیے انتخابی پروگرام منظوری کی غرض سے پیش کیا جائے جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت کے خصوصی ایمرجنسی انتظامات کے تحت آنے والے اضلاع کو فوری انتخابی اور بعض صورتوں میں حلقہ بندی کے شیڈول سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

یہ فیصلہ پانچ رکنی الیکشن کمیشن بینچ نے صوبائی حکومت کی جانب سے انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا۔ صوبائی موقف میں امن و امان، ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی جیسے عوامل کا حوالہ دیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا اور 12 اضلاع کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے نام سے خصوصی انتظامی ڈھانچہ قائم کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق جن اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، وہاں انتخابی پروگرام تیار کیا جائے گا، لیکن بنوں، مہمند، اورکزئی، لکی مروت اور شمالی وزیرستان سمیت وفاقی حکم میں شامل مخصوص اضلاع فوری پروگرام کا حصہ نہیں ہوں گے۔ کمیشن نے باقی متعلقہ علاقوں کے لیے حلقہ بندیوں کے شیڈول اور بعض تحصیلوں میں ویلج و نیبرہڈ کونسلوں اور مخصوص نشستوں کی تعداد موجودہ ریونیو حدود کے مطابق طے کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

خیبر پختونخوا میں موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت کے مختلف مراحل مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو گئے تھے۔ انتخابی قانون کے تحت مدت ختم ہونے کے بعد مقررہ وقت میں نئے بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ صوبائی حکومت اس سے قبل ان علاقوں میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرا چکی تھی جہاں حلقہ بندیاں مکمل تھیں، تاہم بعد میں سکیورٹی اور انتظامی حالات کے باعث التوا کی درخواست سامنے آئی۔

تازہ حکم کا مطلب یہ ہے کہ پورے صوبے کے لیے ایک ہی وقت میں انتخابی عمل روکنے کے بجائے ضلع وار صورتحال دیکھی جائے گی۔ جہاں قانونی اور انتظامی تیاری مکمل ہے وہاں انتخابات کی جانب پیش رفت ہوگی، جبکہ شدید سکیورٹی چیلنجز والے نامزد اضلاع کے بارے میں الگ انتظام برقرار رہے گا۔ انتخابی تاریخوں کا حتمی اعلان الیکشن کمیشن کے منظور کردہ پروگرام کے بعد ہوگا۔