الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو مقررہ مدت میں انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن کے نوٹس کے مطابق پارٹی کو 15 اکتوبر 2026 تک داخلی انتخابات مکمل کرنے کے لیے توسیعی مہلت دی گئی تھی، تاہم مقررہ تاریخ تک قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان سے 14 دن کے اندر وضاحت طلب کی ہے کہ انتخابات ایکٹ 2017 کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ نوٹس میں بالخصوص ان دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے جو سیاسی جماعتوں کے داخلی انتخابات، ان کے انعقاد کی تصدیق اور انتخابی نشان کے حصول یا برقرار رکھنے سے متعلق قانونی ذمہ داریوں کا تعین کرتی ہیں۔

معتبر رپورٹنگ کے مطابق کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل کی صورت میں پارٹی مستقبل کے انتخابات کے لیے انتخابی نشان حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کی اہلیت سے متعلق کارروائی کا سامنا کر سکتی ہے۔ یہ اس مرحلے پر حتمی سزا یا انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ نہیں بلکہ شوکاز کارروائی ہے، جس میں پارٹی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے آخری انٹرا پارٹی انتخابات اکتوبر 2021 میں کرائے تھے اور پارٹی آئین کے تحت نئے انتخابات اکتوبر 2025 تک ہونا تھے۔ معاملہ پہلے بھی کمیشن کے سامنے آیا، جس کے بعد پارٹی کو اضافی وقت دیا گیا۔ تازہ نوٹس میں اسی توسیعی مدت کی عدم تعمیل کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

انتخابات ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کے لیے داخلی انتخابات صرف تنظیمی معاملہ نہیں بلکہ قانونی تقاضا بھی ہیں۔ متعلقہ قواعد کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات مکمل ہونے کے بعد پارٹی کو مقررہ مدت میں کمیشن کے سامنے سرٹیفکیٹ بھی جمع کرانا ہوتا ہے۔ اب آئندہ مرحلہ ایم کیو ایم پاکستان کے جواب اور اس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔ اس لیے انتخابی نشان سے محرومی کو فی الحال ممکنہ قانونی نتیجہ سمجھا جانا چاہیے، حتمی فیصلہ نہیں۔