کراچی: اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ نے اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ میں اپنی پوری 56.19 فیصد حصص داری لوٹے کیمیکل پاکستان لمیٹڈ کو فروخت کرنے کے لیے شیئر پرچیز معاہدہ کرلیا ہے۔ کمپنیوں کے 1 ستمبر 2026 کے باضابطہ اعلانات کے مطابق مجموعی طے شدہ قیمت تقریباً 19.7 ارب روپے، یعنی 38 روپے 60 پیسے فی حصص ہے۔
اینگرو کارپوریشن، اینگرو ہولڈنگز لمیٹڈ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے اور اس کے پاس ای پی سی ایل کا کنٹرولنگ حصہ ہے۔ تازہ پیش رفت معاہدے پر دستخط کی ہے؛ اس سے حصص کی ملکیت فوری طور پر لوٹے کیمیکل کو منتقل نہیں ہوئی۔ لین دین کی تکمیل طے شدہ کاروباری شرائط، مطلوبہ کارپوریٹ فیصلوں، قانونی اجازتوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی منظوری سے مشروط ہے۔
لوٹے کیمیکل پاکستان نے کہا ہے کہ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد وہ قابلِ اطلاق قانون کے مطابق ای پی سی ایل کے باقی حصص یافتگان کے لیے لازمی عوامی ٹینڈر آفر کرے گی۔ اس مرحلے کی قیمت، قبولیت کی مدت، مطلوبہ حصص کی تعداد اور دوسرے ضابطے الگ باضابطہ دستاویزات میں سامنے آئیں گے۔ موجودہ 38.6 روپے فی حصص قیمت کنٹرولنگ حصے کے شیئر پرچیز معاہدے سے متعلق ہے؛ اسے باقی ہر حصص یافتہ کے لیے پہلے ہی نافذ عوامی پیشکش نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
خریدار کمپنی نے مطلوبہ منظوریوں کے بعد ای پی سی ایل کو لوٹے کیمیکل پاکستان میں ضم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ یہ فی الحال مجوزہ کارپوریٹ قدم ہے، مکمل یا منظور شدہ انضمام نہیں۔ کسی انضمام کے لیے بورڈ اور حصص یافتگان کے فیصلوں، ریگولیٹری جانچ، قرض دہندگان یا دوسرے متعلقہ فریقوں کی شرائط اور قانون کے تحت ضروری کارروائی درکار ہو سکتی ہے۔
ای پی سی ایل پاکستان میں مربوط کلور وینائل کمپلیکس چلاتی ہے اور اس کے اہم مصنوعات میں پی وی سی، کاسٹک سوڈا، ہائیڈروجن پرآکسائیڈ، سوڈیم ہائپوکلورائٹ اور ہائیڈروکلورک ایسڈ شامل ہیں۔ لوٹے کیمیکل پاکستان پیوریفائیڈ ٹیریفتھالک ایسڈ، یا پی ٹی اے، تیار کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق دونوں کاروبار ایک پلیٹ فارم پر آنے سے مصنوعات کا دائرہ وسیع، خریداری و سپلائی چین مربوط اور پیداواری اثاثوں کا استعمال بہتر کیا جا سکتا ہے۔ یہ متوقع کاروباری فوائد کمپنی کا تخمینہ ہیں اور ان کا حصول لین دین کی تکمیل اور بعد کے عملی نفاذ پر منحصر ہوگا۔
لوٹے کیمیکل نے ای پی سی ایل کی مہنگی captive gas-based بجلی سے نسبتاً کم لاگت گرڈ بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کو ممکنہ ہم آہنگی کے اہم پہلوؤں میں شمار کیا ہے۔ تاہم توانائی کی حقیقی بچت، درکار سرمایہ کاری، گرڈ کی دستیابی اور منصوبہ بندی کی مدت کے اعداد ابھی حتمی طور پر جاری نہیں کیے گئے۔ اس لیے مستقبل کی لاگت میں کمی کو پہلے سے حاصل شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اینگرو کے مطابق ای پی سی ایل 1997 سے اس کے کاروباری پورٹ فولیو کا حصہ رہی اور مجوزہ فروخت سے گروپ کو اس کاروبار میں بنائی گئی قدر حاصل کرنے کے ساتھ نئے سرمایہ کاری مواقع کے لیے سرمایہ مختص کرنے کی گنجائش ملے گی۔ معاہدہ مکمل ہونے پر اینگرو کا تقریباً تین دہائیوں پر محیط کنٹرولنگ تعلق ختم ہوگا، مگر تکمیل سے پہلے کارپوریٹ ذمہ داریاں اور ملکیت موجودہ قانونی ڈھانچے کے مطابق رہیں گی۔
سرمایہ کاروں کے لیے آئندہ اہم اعلانات میں ریگولیٹری منظوری، عوامی ٹینڈر آفر کی تفصیل، closing conditions کی تکمیل، حصص کی اصل منتقلی اور ممکنہ انضمام کا الگ منصوبہ شامل ہوں گے۔ جب تک یہ مراحل مکمل نہ ہوں، 19.7 ارب روپے کو طے شدہ لین دین کی قیمت اور 56.19 فیصد کو فروخت کے لیے معاہدہ شدہ حصہ سمجھا جائے گا، نہ کہ پہلے ہی مکمل ہو چکی منتقلی۔




