برسلز: یورپی یونین کے سفیروں نے روس سے متعلق پابندیوں کی موجودہ فہرست کی مدت سات دن بڑھا کر 22 ستمبر 2026 تک کر دی ہے۔ یورپی یونین کی آئرش صدارت کے ترجمان کے مطابق 27 رکن ممالک چھ ماہ کی معمول کی تجدید پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے، اس لیے مزید مشاورت کے لیے عبوری توسیع منظور کی گئی۔

یہ پابندیاں تقریباً 3 ہزار افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بناتی ہیں اور ان میں اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیوں جیسے اقدامات شامل ہیں۔ موجودہ فہرست 15 ستمبر کو ختم ہونا تھی، مگر مستقل نمائندوں کی کمیٹی، یعنی کورپر، نے رکن ممالک کو تجدید کی تجاویز کا مزید جائزہ لینے کے لیے ایک ہفتہ دے دیا۔ روس سے متعلق ان انفرادی پابندیوں کی ہر چھ ماہ بعد تجدید ضروری ہوتی ہے اور اس کے لیے تمام 27 رکن ممالک کی متفقہ منظوری درکار ہے۔

مذاکرات میں ایک اہم اختلاف روسی نژاد ازبک ارب پتی علیشیر عثمانوف کا نام فہرست سے نکالنے کے مطالبے پر سامنے آیا۔ یورپی سفارت کاروں کے مطابق فرانس نے سلوواکیہ کے ساتھ مل کر عثمانوف کو پابندیوں سے خارج کرنے کی حمایت کی اور اس کے لیے قومی سلامتی سے متعلق مخصوص خدشات کا حوالہ دیا۔ ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے کہا کہ پیرس روسی جنگی صلاحیت پر دباؤ بڑھانے اور یوکرین کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، لیکن عثمانوف کے معاملے میں ایک الگ قومی سلامتی کا مسئلہ درپیش ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس مخصوص معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

عثمانوف دھاتوں، کان کنی، ٹیلی کمیونیکیشن، انٹرنیٹ اور میڈیا سے منسلک کاروباری مفادات رکھتے ہیں اور یورپی یونین اور امریکا کی پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔ وہ یورپ میں مختلف قانونی کارروائیوں کے ذریعے پابندیوں کو چیلنج بھی کرتے رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 2026 کے آغاز میں ان کی دولت تقریباً 18.8 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔

یورپی یونین میں روس کے خلاف پابندیوں کی تجدید پر آخری وقت تک بحث کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بعض رکن ممالک نے انفرادی ناموں یا پالیسی کی مخصوص شقوں پر اعتراضات کیے ہیں۔ تاہم جون 2026 میں یورپی ممالک نے توانائی سمیت شعبہ جاتی پابندیوں کی مدت پہلی بار ایک سال کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا تھا تاکہ بار بار ہونے والی سیاسی کھینچا تانی کم کی جا سکے۔

سات روزہ توسیع کا مطلب پابندیوں کا خاتمہ یا چھ ماہ کی حتمی تجدید نہیں ہے۔ یہ صرف موجودہ فہرست کو عارضی طور پر مؤثر رکھتی ہے تاکہ 22 ستمبر سے پہلے رکن ممالک اختلافی نکات پر اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کر سکیں۔ اگر متفقہ فیصلہ نہ ہوا تو فہرست کی قانونی حیثیت پر نیا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے آئندہ ایک ہفتے کی سفارتی بات چیت اہم سمجھی جا رہی ہے۔