برسلز: یورپی یونین نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کے پیکج پر مذاکرات تیز کر دیے ہیں۔ یورپی سفارت کاروں اور حکام کے مطابق زیر غور اقدامات کا مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدن محدود کرنا، موجودہ پابندیوں سے بچنے کے راستے بند کرنا اور ایسے اداروں و نیٹ ورکس کو ہدف بنانا ہے جو ماسکو کی جنگی معیشت کو وسائل فراہم کرتے ہیں۔
یورپی یونین روس کے خلاف پہلے ہی متعدد مرحلوں میں مالیاتی، تجارتی، توانائی اور ٹیکنالوجی پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ نئے اقدامات پر اتفاق کے لیے تمام 27 رکن ممالک کی منظوری ضروری ہوتی ہے، اس لیے مجوزہ پیکج کے بعض حصوں میں مذاکرات کے دوران تبدیلی ممکن ہے۔ توانائی درآمدات، تیسرے ممالک میں کام کرنے والی کمپنیوں اور روسی تیل کی نقل و حمل سے منسلک جہازوں پر پابندیاں حالیہ پیکجز میں اہم موضوع رہی ہیں۔
یورپی حکام خاص طور پر اس نام نہاد شیڈو فلیٹ اور مالی و تجارتی نیٹ ورکس پر توجہ دے رہے ہیں جن کے بارے میں مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ روس کو تیل کی برآمد جاری رکھنے یا پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ روس ان مغربی پابندیوں کو غیر قانونی اور سیاسی دباؤ کا ذریعہ قرار دیتا رہا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے اپنی تجارت کو ایشیا اور دیگر منڈیوں کی طرف منتقل کر کے ان کے اثرات کم کیے ہیں۔
پابندیوں کی مؤثریت پر یورپی ممالک میں عمومی اتفاق کے باوجود ان کے اقتصادی اثرات اور نفاذ کے طریقہ کار پر اختلافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بعض ریاستیں توانائی کی قیمتوں اور اپنی صنعتوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ محتاط موقف رکھتی ہیں، جبکہ دیگر ممالک روسی آمدن پر زیادہ سخت اور تیز پابندیوں کے حامی ہیں۔ اسی لیے زیر بحث تجاویز کو حتمی قانون یا منظور شدہ پیکج سمجھنا قبل از وقت ہوگا جب تک رکن ممالک باضابطہ اتفاق نہ کر لیں۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا بنیادی مقصد روس کی یوکرین میں فوجی کارروائیوں کے لیے مالی اور تکنیکی وسائل محدود کرنا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ پابندیاں روسی پالیسی تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور یورپی معیشتوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ نئی تجاویز پر مذاکرات آنے والے دنوں میں جاری رہنے کی توقع ہے اور حتمی فہرست منظوری کے بعد ہی واضح ہوگی۔
