بیجنگ: چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سفارتی رابطے بڑھانے کے لیے اپنا خصوصی ایلچی خطے میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے معمول کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے چین کے خصوصی ایلچی ژائی جون جلد متعلقہ ممالک کا دورہ کریں گے اور فریقوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ کا مقصد علاقائی ممالک اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنا، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنا اور اختلافات کے سیاسی و سفارتی حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔ چین نے حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں سفارتی کردار بڑھانے کی کوشش کی ہے اور ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ریاستوں کے ساتھ وسیع اقتصادی اور سیاسی روابط رکھتا ہے۔
خصوصی ایلچی کا دورہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب خطے میں جنگ اور اس کے اثرات نے توانائی کی عالمی منڈیوں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ چین اپنی توانائی ضروریات کے لیے خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے خطے میں طویل عدم استحکام کے اقتصادی اثرات بیجنگ کے لیے بھی اہم ہیں۔ بحیرہ احمر اور اس سے منسلک تجارتی راستوں میں رکاوٹیں عالمی سپلائی چین اور مال برداری کے اخراجات کو متاثر کر سکتی ہیں۔
بیجنگ نے عمومی طور پر تنازعات میں فوری کشیدگی میں کمی، شہریوں کے تحفظ اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ خصوصی ایلچی ژائی جون ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ کے متعدد بحرانوں پر علاقائی حکومتوں اور سفارتی نمائندوں سے رابطے کرتے رہے ہیں۔ تازہ مشن میں کن ممالک کا دورہ کیا جائے گا اور مذاکرات کا تفصیلی شیڈول کیا ہوگا، اس کی مکمل فہرست فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
چینی اعلان کو کسی جنگ بندی یا سیاسی سمجھوتے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ فی الحال سفارتی رابطے بڑھانے کا اقدام ہے، اور اس کے عملی نتائج کا انحصار متحارب اور علاقائی فریقوں کے ردعمل اور زمینی صورتحال پر ہوگا۔ تاہم چین کی جانب سے خصوصی ایلچی بھیجنے کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ بیجنگ خطے کے بحران میں سفارتی سطح پر زیادہ فعال کردار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
