نیویارک/غزہ: اقوام متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے غزہ میں شہری آبادی تک خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر بنیادی اشیا پہنچانے کے لیے زیادہ قابل اعتماد اور مسلسل رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی ادارے کے حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے کراسنگز، نقل و حرکت کی اجازت اور ضروری سامان کی منظوری میں رکاوٹیں انسانی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ امدادی سامان کی مقدار کے ساتھ اس کی مسلسل اور محفوظ ترسیل بھی اہم ہے۔ جنگ اور طویل نقل مکانی کے باعث غزہ میں بڑی تعداد میں خاندان خوراک، صاف پانی، طبی سہولت، رہائش اور حفظان صحت کی اشیا کے لیے بیرونی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ ہسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کو بھی ادویات، آلات اور توانائی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
اسرائیلی حکام ماضی میں کہتے رہے ہیں کہ امداد کے داخلے کے لیے انتظامات موجود ہیں اور وہ سکیورٹی جانچ کو ضروری سمجھتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور متعدد امدادی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ موجودہ طریقہ کار ضرورت کے حجم کے مقابلے میں ناکافی اور غیر یقینی ہے۔ امدادی رسائی سے متعلق اعداد و شمار اور ذمہ داریوں پر فریقوں کے بیانات میں اختلاف بھی سامنے آتا رہا ہے، اس لیے ان دعوؤں کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کرنا ضروری ہے۔
انسانی امدادی اداروں کے مطابق مؤثر کارروائی کے لیے صرف سرحد سے سامان داخل ہونا کافی نہیں بلکہ غزہ کے اندر محفوظ نقل و حرکت، گوداموں تک رسائی اور مختلف علاقوں میں تقسیم کے قابل راستے بھی درکار ہیں۔ جنگی حالات میں سکیورٹی واقعات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان امدادی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ذمہ داریوں کی بھی یاد دہانی کرائی ہے۔
غزہ میں انسانی صورتحال پر بین الاقوامی دباؤ مسلسل برقرار ہے۔ اقوام متحدہ کا تازہ مطالبہ کسی سیاسی سمجھوتے کا اعلان نہیں بلکہ امدادی رسائی بہتر بنانے کی اپیل ہے۔ زمینی صورتحال، کراسنگز کے انتظام اور جنگی کارروائیوں میں تبدیلی کے ساتھ روزانہ دستیاب امداد کی مقدار بدل سکتی ہے، تاہم عالمی ادارے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ شہری ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر، مسلسل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد ناگزیر ہے۔
